اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے عمران خان کی دھاندلی کی تحقیقات کیلئے عدالتی کمیشن میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کو شامل کرنے کی تجویز مسترد کر دی۔ اسحاق ڈار کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ عمران خان جے آئی ٹی بنوانا چاہتے ہیں، عدالتی کمیشن میں صرف ججز ہی ہوا کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایم آئی یا آئی ایس آئی کے نمائندوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کرنا حیران کن ہے، ملک میں جنگل کا قانون یا بادشاہت نہیں ہے، اسحاق ڈار نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا تھا، اب کمیشن میں ججز کی نامزدگی چیف جسٹس کی صوابدید پر ہے، انہوں نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کوئی کمیشن تشکیل نہیں دیا جاسکتا، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ عدالت نے جیسے ہی کمیشن کیلئے نام دیئے فوراً نوٹیفیکیشن جاری کر دیں گے۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ حکومت نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات ختم نہیں کئے، مسلم لیگ نون کی طرف سے بات چیت کے دروازے کھلے ہیں، اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ انتخابی اصلاحات کمیٹی میں حکومت نے اپنا کوٹہ چھوڑا، جن کی نمائندگی نہیں بنتی تھی ان کو بھی شامل کیا۔
انہوں نے کہا کہ دھرنوں نے پاکستان کو بہت نقصان پہنچایا ہے، پاکستان پر انٹرنیشنل مارکیٹ کا اعتماد ہل چکا ہے، اب نوبت یہاں تک آچکی ہے کہ او جی ڈی سی ایل کے حصص دو سو سولہ روپے پر بھی کسی نے نہیں خریدے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جمہوریت میں اکثریت کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے، ذاتی پسند ناپسند پر اختلافات مناسب نہیں، چیف الیکشن کمشنرکی تقرری کے لئے قائد حزب اختلاف آئندہ ایک دو روز میں پارلیمانی کمیٹی کو 3 نام بھجوا دیں گے، جس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ان ناموں پر غور ہوگا اور پارلیمانی کمیٹی ہی چیف الیکشن کمشنر کے نام کی حتمی منظوری دے گی۔ انہوں نے کہا کہ دھرنوں کی وجہ سے جہاں ملک کو معاشی حوالوں سے بہت نقصان ہوا وہیں بین الاقوامی اداروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچا، لیکن حکومت ملک کو معاشی بحالی کی جانب گامزن کرنے کے لئے تمام تر اقدام کرے گی، یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند روز میں معیشت دوبارہ بہتری کی جانب گامزن ہوئی ہے، روپے کی قدر مستحکم ہو رہی ہے اور اسٹاک مارکیٹ بہتر ہو رہی ہے۔
.......
/169