اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق محمدجواد ظریف نے سنیچر کی رات عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچنے پراپنے عمانی ہم منصب یوسف بن علوی سے مختصر گفتگو میں کہا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا مقصد کبھی بھی عسکری نہيں تھا اور نہ رہےگا۔
جواد ظریف نے تاکید کے ساتھ کہا کہ مغرب کے لئے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ اس حقیقت کی جانب توجہ کرے کہ اس نے اب تک جو اقدامات دباؤ ڈالنے اور ایران پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے کئے ہیں اس میں ان کے لئے کوئي خاصیت نہيں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر ایک راہ حل تک پہنچیں۔
ایران کے وزیرخارجہ نے تاکید کے ساتھ کہا کہ اگر مغرب اس طرح کے راہ حل میں دلچسپی اور امید رکھتا ہے تو چوبیس نومبر تک اس راہ حل تک پہنچا جاسکتا ہے اور مفاہمت ہوسکتی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزيرخارجہ جواد ظریف، امریکی وزیرخارجہ جان کیری اور ایران وگروپ پانچ جمع ایک کے درمیان ایٹمی مذاکرات کی کوارڈی نیٹر کیتھرین اشٹن کے ساتھ گفتگو کےلئے سنیچر کی رات عمان کے دارالحکومت مسقط پہنچے۔
مسقط ائرپورٹ پر عمان کے وزيرخارجہ یوسف بن علوی نے ایران کے وزيرخارجہ جواد ظریف کا استقبال کیا۔ پروگرام کے مطابق آج ایران کے وزيرخارجہ اپنے امریکی ہم منصب جان کیری اور کیتھرین اشٹن کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات کریں گے۔
.......
/169