اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شام میں حکومت مخالف غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی حمایت کی پرزور وکالت کرنے والے یورپی ملک فرانس کی پارلیمان نے ملک میں دہشت گردی کے انسداد کے لیے ایک نئے قانون کو منظوری دی ہے۔
اس قانون کے تحت دوسرے ممالک میں شدت پسند کارروائیوں میں شرکت کی غرض سے جانے والے کسی بھی شخص پر سفری پابندی عاید کی جاسکے گی۔
اس قانون کے تحت مشتبہ فرانسیسی شہری کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ چھ ماہ کے لیے ضبط کیا جاسکے گا اور اس کے بعد اس کی صرف دوسال کے لیے تجدید کی جائے گی۔
یہ مدت گزرنے کے بعد مشتبہ شخص کو دوبارہ پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی تجدید کرانا ہوگی۔
شامی حکام کے مطابق، فرانس ان ممالک میں سے ہے جو صدر بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لیے بڑے پیمانے پر غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو ہتھیار فراہم کرا رہے ہیں۔
سیکڑوں فرانسسی شدت پسند تکفیری گروہوں میں شامل ہو کر شام میں تشدد میں ملوث ہیں، جن کی ملک واپسی سے فرانس کی حکومت خطرہ محسوس کر رہی ہے۔
نئے قانون کے تحت دہشت گردی کے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو ازخود سزا دی جاسکے گی اور فرانس کی سلامتی کے لیے کسی بھی ممکنہ خطرے کا موجب بننے والے یورپی یونین کے رکن ممالک کے کسی بھی شہری کے فرانس میں داخلے کو روکا جا سکے گا۔
فرانس میں آن لائن حقوق کا دفاع کرنے والی ایک تنظیم نے اس بل کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی تھی اور اسے نامناسب ،خطرناک اور آزادی کے لیے تباہ کن قرار دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔
/169