اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے نائب مشیر بین روڈس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مسئلہ کا معاہدہ، شاید صدر اوباما کے دوسرے دورۂ صدارت میں خارجہ پالیسی کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔
روڈس نے کہا کہ اس تعلق سے اہم بات ہے کہ جب سے صدر اوباما نے عہدہ صدارت سنبھالا ہے اور شاید عراق جنگ کی شروعات سے ایرانی مسئلہ کے سفارتی حل کا بہترین موقع فراہم ہوا ہے۔ اس لیے یہ کوئی معمولی موقع نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بہت بڑا معاہدہ ہے۔ شاید کہہ سکتے ہیں کہ صدر اوباما کے دورۂ اقتدار کے دوسرے مرحلے کی یہ سب سے اہم کامیابی ہوگی۔
اس تبصرے سے ظاہر ہو جاتا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مسائل کا حل اوباما انتظامیہ کے لیے کتنا اہم ہے، جس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدے کا امکان ففٹی ففٹی سے زیادہ نہیں ہے۔
روڈس نے یہ بھی کہا کہ اوباما انتظامیہ نہیں چاہتی کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے بارے میں کانگریس فیصلہ لے۔
انہوں نے کہا کہ اس بارے میں ہم نے پہلے ہی غور و فکر کیا ہوا ہے، اور اس کام کو انجام دینے کے کئی راستہ ہیں۔
خیال رہے کہ 24 نومبر کی ڈیڈلائن سے قبل ایران اور چھ عالمی طاقتیں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات میں مصروف ہیں۔
.......
/169