اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین اسلامی عمل تنظيم کے نائب سربراہ شیخ عبداللہ ابراہیم صالح نے بحرین کی امریکہ نواز ڈکٹیٹر آل خلیقہ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آل خلیفہ حکومت بحرین میں جنگي جرائم کا ارتکاب کررہی ہے اور بحرین کی جیلوں میں اس وقت 5000 شہری قید و بند کی صعوبتیں کاٹ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بحرین میں 2011 میں آغاز ہونے والے انقلاب میں اب تک 270 افراد شہید 200 سے زائد زخمی اور 5000 افراد جیل میں بند ہیں جبکہ 16 ہزآر افراد کو نوکریوں سے نکال دیا گيا تھا جن میں بعض نوکریوں پر واپس آچکے ہیں لیکن 5ہزار افراد اب بھی حکومت کے مظالم کا شکار ہیں۔ شیخ عبد اللہ صالح نے کہا بحرینی حکومت نے 40 مساجد کو شہید کیا جن کی تعمیر ابھی تک شروع نہیں کی جاسکی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام پر ہونے والے مظالم میں وہ مغربی ممالک بھی شریک ہیں جن کےسعودی عرب کے ساتھ اقتصادی مفادات وابستہ ہیں اور سعودی عرب بحرین کی ڈکٹیٹر آل خلیفہ حکومت کی پشتپناہی کرکے بحرینی عوام کے حقوق کو پامال کررہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک اس لئے سعودی عرب حکومت کی حمایت کررہے ہیں کیونکہ سعودی عرب کی حکومت انھیں تیل 150 ڈالر کے بجائےصرف 40 یا 50 ڈالر میں فروخت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کی وہابی حکومت ، اسلام اور مسلمانوں کی پشت میں خنجر گھونپ رہی ہے اور سعودی حکومت درحقیقت علاقہ میں امریکہ کی آلہ کار حکومت ہے جو اسرائیل کی طرح خطے میں امریکہ کے مفادات کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عرب ، بحرین اور خلیجی ممالک اسرائيل کے خلاف نہیں ہے اس لئےوہ امریکہ کے نزدیک پسندیدہ ممالک ہیں اور امریکہ ان کے تیل کے سرمائے کو ان سے سستی قیمت پر حاصل کرتاہے لہذا امریکہ خلیجی ممالک کے تمام جرائم پر اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے ہے امریکہ کو ان ممالک میں نہ توجمہوریت عززیز ہے اور نہ ہی انسانی حقوق۔ امریکہ کو ان عرب ممالک میں صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔
.......
/169