اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پیش مرگہ کے یہ جوان عرفہ ایئرپورٹ سے شام کی سرحد سے ملحقہ سورک کے لیے روانہ ہوگئے۔ 70 جنگجوؤں پر مشتمل ایک دوسرا کاروان عراق اور ترکی کی سرحد پر کوبانی جانے کے لیے ترک حکام کی جانب سے اجازت کا منتظر ہے۔
کرد عہدے دارو ں کا کہنا ہے کہ توب خانے اور مشین گنوں سے مسلح 80 کے قریب یہ جنگجو کوبانی کی جنگ میں شرکت کی غرض سے، منگل کی شام ترکی کی سرحد میں داخل ہو گئے، جب کہ توقع ہے کہ مزید 70 جنگجو بدھ کو روانہ ہوں گے۔
ترک وزیر خارجہ، ملوت ساؤسگلو نے بتایا ہے کہ پیش مرگہ افواج ’کسی بھی لمحے‘ کوبانی کے جنگ زدہ قصبے میں داخل ہوجائیں گے۔
خیال رہے کہ ستمبر کے وسط سے شامی کرد تکفیری دہشت گرد گروہ سے کوبانی اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں نبردآزما ہیں، کرد فورسز کی سخت مزاحمت کے باوجود دہشت گردوں نے کوبانی کے کئی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔
داعش نے شام کے کرد اکثریتی اسٹریٹجک شہر کوبانی پر قبضے کے لیے اپنا پوری طاقت جھونک دی ہے، تاکہ ترکی کے ذریعہ شام پہنچنے والے دنیا بھر کے شدت پسندوں کو کسی طرح کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اس راستے سے وہ آسانی سے تیل اسمگل کر سکیں۔
.......
/169