28 اکتوبر 2014 - 15:32
ايران کے خلاف انساني حقوق کے تعلق سے بے بنياد الزام

بڑي طاقتوں کي شہ پر ايران کے خلاف اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے خصوصي رپورٹر کے بے بنياد الزامات کا سلسلہ جاري ہے ۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے خصوصي رپورٹر احمد شہيد نے ايران پر ايک بار پھر انساني حقوق کي خلاف ورزي کا بے بنياد الزام لگايا ہے ۔ انہوں نے نيويارک ميں صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے جعلي اور غير حقيقي ذرائع کے حوالے سےدعوي کيا کہ ايران ميں بقول ان کے موت کي سزاؤں ميں اضافہ ہوگيا ہے ۔ احمد شہيد نے يہ دعوي بھي کيا کہ ايران ميں بقول ان کے ان جرائم ميں بھي اضافہ ہوگيا ہے جن پر سزائے موت دي جاتي ہے ۔

انہوں نے يہ بے بنياد بيان ايسي حالت ميں ديا ہے کہ ايران ميں، سزائے موت کا فيصلہ قانوني اور عدالتي مراحل طے کرنے کے بعد کيا جاتا ہے اور آج تک کسي کو بھي سياسي سرگرميوں کي وجہ سے سزائے موت نہيں سنائي گئي ہے ۔ ايران ميں سزائے موت صرف انہيں عناصر کو دي جاتي ہےجو قومي سلامتي يا معاشرے کے امن و امان ميں خلل ڈالتے ہيں ، جيسے منشيات کے اسمگلروں کو سزائے موت سنائي جاتي ہے ۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ قصاص کے طور پر بھي کسي کو پھانسي دي جائے ليکن اس کا تعلق حکومت سے نہيں بلکہ مقتول کے ورثا سے ہوتا ہے جنہيں از روي اسلام قاتل سے قصاص کا حق حاصل ہے ۔
قصاص کا فيصلہ بھي تمام قانوني اور عدالتي مراحل طے کرنے کے بعد ہي کيا جاتا ہے ۔ اقوام متحدہ کے انساني حقوق کے خصوصي رپورٹر احمد شہيد نے ايراني يونيورسٹيوں ميں طالبات کي تعداد کم ہونے کا دعوي کرکے اس بات کا ثبوت ديا ہے کہ نہ انہيں ايران کے اندر کے حالات کا علم ہے اور نہ ہي ان کے پاس صحيح اعداد و شمارہيں۔ انہوں نے ايران کي يونيورسٹيوں ميں لڑکيوں کي تعداد کم ہونے کا دعوي ايسي حالت ميں کيا ہے کہ کئي سال سے ايران کي يونيورسيٹوں ميں طالبات کي تعداد ساٹھ فيصد ہےاور ايران ميں خواتين کي حالت ان ملکوں کي خواتين کي حالت سے کہيں بہتر ہے جو انساني حقوق کے دفاع کے دعويدار ہيں ۔
.......

/169