30 ستمبر 2014 - 13:20
اسرائیلی کمانڈر کی اسلامی مزاحمت کے مقابلے میں شکست فاش کا اعتراف

اسرائیلی فوج کی اسپیشل کمانڈو یونٹ "گولانی" کے سربراہ کرنل غسان علیان نے جولائی اور اگست کے مہینوں کے دوران اکاون روز تک غزہ کی پٹی پر جاری رکھی گئی وحشیانہ جنگ میں مٹھی بھر مجاھدین کے ہاتھوں اپنی شکست فاش کا اعتراف کیا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسرائیل کے عبرانی ٹی وی 7 کی جانب سے نشر کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کرنل علیان  کے بیان میں آیا ہے جولائی اور اگست کے مہینوں کے دوران اکاون روز تک غزہ کی پٹی پر جاری رکھی گئی وحشیانہ جنگ میں مٹھی بھر مجاھدین کے ہاتھوں اپنی شکست فاش کا اعتراف کیا ہے فلسطینی مقاومت کاروں کے خلاف لڑائی انتہائی مشکل اور پیچیدہ تجربہ ثابت ہوا۔
 
ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے لیے زمینی کارروائی پیغام موت ثابت ہوئی اور زمینی آپریشن کے پہلے روز 88 فوجی افسر اور جوان ہلاک اور زخمی ہوئے۔

کرنل غسان کا کہنا تھا کہ غزہ جنگ میں فوجی افسروں کے زخمی ہونے کے واقعات نے فوج پر نفسیاتی طور پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ مسلسل کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد ہمارے فوجی اکتائے ہوئے لگ رہے تھے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بوجھ سمجھنے لگے تھے۔
 
خیال رہے کہ فلسطینی مقاومت کاروں کے حملے میں کرنل غسان علیان خود بھی زخمی ہو گیا تھا۔ انہوں‌ نے مزید کہا کہ غزہ میں زمینی آپریشن کے پہلے روز گولانی بریگیڈ کے 16 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔ فوج کے لیے ایک روز میں اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کی ہلاکت غیر معمولی ہے۔ جیسے ہمیں اعلیٰ کمانڈ کی جانب سے ہدایت ملی کہ اب غزہ کی پٹی میں فوج داخل کر دی جائے تو سب سے پہلے کمانڈو یونٹ "گولانی" کے اہلکار داخل ہوئے۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲