اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹرحسن روحانی نے روس کے ٹی وی چینل چوبیس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کے ایٹمی مسئلے کے تمام فریق عزم محکم کے حامل ہوں تو مقررہ تاریخ میں ایٹمی معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے اور ایران اس کے لئے پرعزم ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے مزید کہا کہ گروپ پانچ جمع ایک کے تمام فریق ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کی ضرورت کوسمجھتے ہيں لیکن اس عمل میں امریکہ بہت دھیرے دھیرے حرکت کر رہا ہے۔
روحانی نے مزيد کہا کہ امریکہ بھی اپنے طویل مدت مفاد کے بارے میں سوچ رہا ہے کیونکہ اس وقت موجودہ مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔
ایران کےصدرنے بالخصوص داعش پر امریکی حملوں کے سلسلے میں کہا کہ امریکہ کے ہاتھوں داعش کے ٹھکانوں پرحملہ ایک نمائشی اقدام ہے۔
صدر مملکت نے ایران اور روس کے تجارتی تعلقات میں فروغ کے بارے میں کہا کہ دونوں ملکوں نے اقتصادی اور تجارتی معاہدے پر دستخط کرکے دوطرفہ تعاون و تعلقات ميں اہم پیشرفت کی ہے۔
صدر روحانی نے ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کی غیرقانونی پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ مغرب، ملکوں پر پابندی کو اپنے مقاصد کے حصول کا وسیلہ بنائے ہوئے ہے لیکن ایران کے سلسلے میں یہ اقدام موثر نہيں ہے۔
.......
/169