27 ستمبر 2014 - 13:13
داعش نے خاتون کارکن کو سرعام قتل کر دیا + تصویر

عراق کے موصل سٹی میں تكفيري دہشت گروہ داعش نے ایک انسانی حقوق کی ایک خاتون کارکن کو صرف اس لئے قتل کر دیا کیونکہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اس گروہ کے جرائم کی مذمت کی تھی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مشہور انسانی حقوق کی کارکن سميرہ صالح النعیمی کا دہشت گردوں نے ان کے گھر سے اس وقت اغوا کر لیا جب وہ اپنے تین بچوں اور شوہر کے ساتھ گھر میں تھیں اور اس کے تقریبا پانچ دن بعد انہیں اذیتیں دے کر سر عام بڑی ہی بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔

النعیمی کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے فیس بک کے اپنے پیج پر داعش کی جانب سے مقدس مقامات اور مزاروں کو منہدم کئے جانے کی مذمت کی تھی۔

عراق میں اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سمیرہ کو سر عام قتل کیا گیا۔
عراق میں اقوام متحدہ کے نمائندے نكولائی میلادونوف نے کہا ہے کہ ایک ایسی خاتون کارکن کو اذیتیں دینا اور اس کا قتل کرنا جن کا صرف اتنا جرم تھا کہ انہوں نے داعش کے جرائم کے خلاف آواز آٹھائی، اس دہشت گروہ کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے اور اس سے دہشت گردوں کے گھناؤنے جرم بھی روشن ہو جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے نمائندے نے کہا کہ سمیرہ کا اغوا فیس بک پر ان کے پوسٹ کی وجہ سے کیا گیا جن میں موصل سٹی میں مذہبی مقامات کو منہدم کئے جانے کی مذمت کی گئی تھی۔

سمیرہ النعیمی کا قتل، کارکنوں اور بے گناہ افراد کے قتل کی ایک نئی کڑی ہے۔

عراق کی مشہور انسانی حقوق کی کارکن حنا ایڈور کے مطابق، داعش کے دہشت حالیہ دنوں میں موصل سٹی میں کم سے کم پانچ خواتین کارکنوں کو قتل کر چکے ہیں۔

ایڈور نے کہا کہ انہیں صرف ایک خاتون ہونے کی وجہ نشانہ نہیں بنایا گیا ہے بلکہ وہ ہر اس آواز کو دبانا چاہتے ہیں جس سے انہیں ڈر لگتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/169