اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 69ویں سالانہ سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک کے دورے پر گئے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف 2002 میں گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں نیویارک کی ایک عدالت کی جانب سے جاری عدالتی سمن کو مودی تک پہنچانے کے عوض انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انعام کا اعلان کیا ہے.
امریکہ میں نیویارک کی ایک عدالت نے مودی کے خلاف 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے میں سمن جاری کیا ہے.
یہ مقدمہ امریکی ادارے امریکن سینٹر فار جسٹس اور گجرات فسادات کے دو متاثرین نے دائر کیا ہے اور اسی ادارے نے اب عدالتی سمن کو مودی تک پہنچانے کے لئے 10 ہزار امریکی ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے.
نیویارک کی عدالت نے مودی کو سمن موصول ہو جانے کی صورت میں 21 دن کے اندر اندر عدالت میں جواب داخل کرنے کی بھی ہدایت دی ہے.
مودی جمعہ کو پانچ دنوں کے دورے پر امریکہ پہنچے ہیں.
غور طلب ہے کہ نریندر مودی پر گجرات کے وزیر اعلی کی حیثیت سے ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات کے دوران مسلم اقلیتی فرقے کو سیکورٹی فراہم نہ کرنے اور زعفرانی شدت پسندوں کو مسلمانوں کے قتل عام کے لیے کھلی چھوٹ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
2002 میں ہندوستان کے بد ترین مسلم کُش فرقہ وارانہ فسادات کے دوران گجرات میں کم از کم 3000 مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تھا اور لاکھوں افراد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں رہنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تھا، جن کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکی ہے۔
.......
/169