اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ امریکہ کے ایک ممتاز تجزیہ نگار اور جوہری ہتھیار کے خلاف گلوبل نیٹ ورک کے کوآرڈینیٹر ‘بروس گیگنن’ نے کہا ہے کہ امریکہ اپنی اسلحہ انڈسٹری کے فائدے اور عراق میں تیل کے ذخائر پر اپنے کنٹرول کو جاری رکھنے کیلئے داعش کے خطرات کا استحصال کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ داعش دہشتگردوں نے اوباما انتظامیہ کو خطے کے تیل کے وسائل پر قابو جاری رکھنے کیلئے ایک اچھا موقع فراہم کیا ہے اور امریکہ کے ٹیکس ڈالروں کو اسلحی کارپوریشنوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع ہونے کیلئے بھی راہ ہموار کی ہے۔
گیگنن نے کہا کہ چونکہ اب عراق اور افغانستان میں جنگ ختم ہوچکے تھے اور وہاں دشمنوں کا خاتمہ ہوا تھا لہٰذا داعش کے وجود نے اسلحہ کارپوریشنوں کو زندہ رہنے کا موقع فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ کئی امریکیوں کا خیال ہے کہ داعش امریکہ کیلئے خطرہ نہیں ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ داعش کو امریکہ اور اس کے حواریوں نے ہی وجود میں لایا ہے اور اس کی ہر ممکن مدد کررہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کئے ہیں۔ امریکی صدر نے عراق اور شام میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی اجازت دی ہے اور وسط اگست سے امریکہ نے عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر 174 فضائی حملے کئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲