21 ستمبر 2014 - 22:34
گلگت میں بم برآمد ہونیکا واقعہ متعدد سوالات کو جنم دینے لگا

شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشتگروں کی بڑی تعداد نے فرار کی راہیں اختیار کی ہیں اور شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے آسان ترین راستوں میں سے ایک راستہ گلگت بلتستان کی جانب پہاڑوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ بعید نہیں کہ دہشتگرد گلگت بلتستان میں محفوظ اور مضبوط پناہ گاہوں کی تلاش میں پہنچ گئے ہوں اور اپنی فطرت سے مجبور ہو کر گلگت میں کاروائی کا آغاز کر دیا ہو۔ ان تمام حالات میں ان تمام سکیورٹی اداروں کو مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق گلگت میں علی مسجد پر دہشتگردوں کی جانب سے اسوقت حملے کی کوشش کی گئی جب ایک طرف ملک میں پاکستان آرمی کی جانب سے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن جاری ہے تو دوسری طرف حالیہ بے رحم سیلابی ریلوں نے غریبوں کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں اور تیسری طرف پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک انصاف کا دھرنا پورے جوبن پر ہے اور نواز شریف کا استعفٰی نوشتہ دیوار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ گلگت میں دہشتگردی کی کوشش ان دنوں میں کی جا رہی ہے جب تمام مکاتب فکر ایک عرصے کے بعد محبتوں کے ساتھ زندگی گزارنے میں کامیاب ٹہرے ہیں اور یہ عوامی ایکشن کمیٹی کا عظیم کارنامہ تھا کہ انہوں نے عشروں سے جاری نفرتوں اور ٹارگٹ کلنگ کے سلسلوں کو محبتوں میں بدل دیا۔ حالیہ واقعے کو آسان لینے کی بجائے اسے سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے اور اس واقعے کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں ان پر غور کرنے سے قبل یہ ضروری ہے کہ اصل واقعے کو سامنے رکھتے ہیں۔

گذشتہ دنوں گلگت خومر میں علی (ع) مسجد میں نمازیوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنانے کیلئے کچھ لوگ بالٹی میں ایک آٹے کی تھیلی میں سات کلو وزنی بم کے ساتھ وسیع مقدار میں بال بیرنگ اور کیلیں نصب کر رہے تھے کہ مسجد کے قریب واقع گھر کے مکینوں نے انہیں دیکھ لیا تو دہشتگرد مسجد کے باہر موجود کار میں بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ عینی شاہدین نے کار پر پتھر سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں کار کا پیچھلا شیشہ بھی ٹوٹ گیا۔ جس کے بعد پولیس کی بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر بم کو ناکارہ بنا دیا۔ واقعے کے فوراً بعد دہشتگردوں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے۔

گلگت میں قیام امن اور وحدت و بھائی چارگی کے فروغ کے لیے موجودہ حکومت نے اپنے پانچ سال کے عرصے میں کروڑوں روپے خرچ کئے اور فریقین کو ایک ٹیبل پر بٹھانے کے لیے تمام حربے استعمال کئے۔ اس کام کیلئے مختلف بورڈز، کمیٹیاں، کونسلز وغیرہ بناتے رہے اور سرکاری خرانے سے پیسے لٹاتے رہے مگر نہ امن کا قیام عمل میں لایا جا سکا اور نہ مختلف مکاتب فکر کے درمیان وحدت و محبت کی فضا قائم کرنے میں کامیابی ملی۔ شاید شاہ و گدا کو معلوم نہ ہو کہ امن و محبت طاقت اور دولت سے نہیں بلکہ خلوص و دیانت سے قائم کی جا سکتی ہے چنانچہ عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت بلتستان میں صدیوں کی کدورتوں کو محبتوں میں بدل کر ایک عظیم تاریخ رقم کر دی۔ یہ کام چند سیاسی جماعتوں کو کھٹک رہا ہے ایک تو یہ چند سیاسی جماعتیں چاہتی نہیں تھیں کہ یہ کریڈٹ بھی عوامی ایکشن کمیٹی کو جائے اور دوم یہ کہ جب تک گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ فسادات نہ ہوں چند افراد نے ایوان میں نہیں پہنچنا ہے۔ ان افراد کی شخصیت اتنی اچھی نہیں ہے کہ انکو دیانت دار تسلیم کر کے اپنا نمائندہ منتخب کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ تعصب میں انسان اندھا ہو جاتا ہے اور اپنے مسلک کے نااہل ترین افراد کو بھی اپنا نمائندہ تسلیم کر لیتا ہے۔ لہذٰا الیکش سے قبل گلگت میں فرقہ واریت اور تعصبات چند سیاسی شخصیات کے لیے ایسا کچھ ضروری بھی ہے کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔

گلگت میں قیام امن اور مذہبی ہم آہنگی کے باوجود موجودہ حکومت نے ایک اور علماء کمیٹی "علماء مشاورتی کونسل" کا قیام عمل میں لایا ہے اور اس کونسل کے اراکین کو ظل سبحانی نے خلعت سلطانی سے نوازنے کا عندیہ دیا ہے اور دربار حکومت کی تزئین کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کو ناگریز قرار دیتے ہوئے شاہی حکم صادر کر کے انہیں گریڈ سترہ کی مراعات سے نوازنے کا اہتمام بھی کر لیا ہے۔ اس اہتمام کے ساتھ ہی چند علماء نے اسے رد کیا ہے، چند کی آنکھیں چندھیا گئی ہیں اور چند اس فہرست میں اپنی موجودگی کو شرمندگی کے ساتھ غنیمت سمجھ رہے ہیں۔ اگرچہ ان دنوں ایسی کونسل کی چنداں ضرورت تو نہ تھی لیکن اچانک سے نہ جانے شاہی ارادے میں کیوں آیا۔ اس کونسل کا کام بھِی بنیادی طور پر خطے میں مذہبی رواداری کو فروغ دینا اور قیام امن ہے جو کہ پہلے سے موجود ہے۔ اگر خومر کی طرح کا کوئی واقعہ پیش نہ آیا تو اس کونسل کا قیام بھی غیرمنطقی ثابت ہوگا اور اس واقعے سے کونسل کی ضرورت بھی اہم سمجھی جائے گی۔

جس ماحول کو حکومت اپنی تمام تر مشینری استعمال میں لانے اور کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود پیدا نہ کر سکی اسے عوامی ایکشن کمیٹی نے نہایت خلوص کیساتھ کر دکھایا تو اسکا صلہ حکومت کی جانب سے تاحال جاری ہے۔ انکو ہر جگہ پر انتظامی طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انتہائی اہم ذرائع کے مطابق مختلف علاقوں بالخصوص گلگت اور بلتستان کے عوامی ایکشن کے رہنماوں کو الجھانے کے لیے باقاعدہ حکومتی مشینری مصروف ہے تاکہ انکی مقبولیت کے گراف کو نیچے لایا جا سکے یہ اور اس طرح کے واقعات سے عوام تک یہ پیغام بھی پہنچ سکتا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے امن کے قیام کے لیے اٹھائے جانے والے قدم دیرپا نہیں ہیں یعنی دوسرے الفاظ میں عوامی ایکشن کمیٹی کا قصہ ختم ہو چکا ہے اور انکا افسوں بھی زیادہ دیر نہیں چل سکا اور قیام امن میں انہیں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ اتحاد قائم و دائم رہا تو آئندہ انتخابات میں کسی بھی بدعنوان سیاست دان کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔

اس واقعے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ دن کے اجالے میں اس طرح کا واقعہ پیش آنا گلگت اور بلتستان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے بعد دہشتگروں کی بڑی تعداد نے فرار کی راہیں اختیار کی ہیں اور شمالی وزیرستان سے فرار ہونے والے آسان ترین راستوں میں سے ایک راستہ گلگت بلتستان کی جانب پہاڑوں کے درمیان سے نکلتا ہے۔ بعید نہیں کہ دہشتگرد گلگت بلتستان میں محفوظ اور مضبوط پناہ گاہوں کی تلاش میں پہنچ گئے ہوں اور اپنی فطرت سے مجبور ہو کر گلگت میں کاروائی کا آغاز کر دیا ہو۔ ان تمام حالات میں ان تمام سکیورٹی اداروں کو مثبت کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے جو حکومت کی لونڈی بننے کی بجائے ریاست کو تحفظ اور استحکام کی راہ پر گامزن کریں۔

.......

/169