اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ علاقے ميں داعش سے مقابلے کے لئے ایران کو امریکی نیت پر شک ہے۔ پریٹوریا سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللھیان نے آج کہا کہ علاقے میں دہشت گرد گروہ سے مقابلے کے لئے امریکی نیت میں کھوٹ پایا جاتا ہے کیوں کہ اس نے اب تک دہشت گردوں کے خلاف کوئی ٹھوس اور عملی اقدام نہيں کیا ہے۔امیر عبداللھیان نے اس بات کا ذکر کرتےہوئے کہ شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں سے مقابلے کے لئے اٹھایا جانے والا قدم بہت تاخیر سے اٹھایا جارہا ہے، کہا کہ تہران نے شام کے بحران کی ابتدا میں ہی امریکہ اور بعض مغربی علاقوں کو خبردار کردیا تھا کہ شام کے نظام کی تبدیلی کے مقصد سے دہشت گردوں کی تمہاری عملی اور کھلم کھلا حمایت کا نتیجہ، برعکس ظاہر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی دہشت گردی سے مقابلے میں سنجیدہ ہیں تو اپنے رویۓ ميں تبدیلی لائیں، یہ بات ہرگز قابل قبول نہيں کہ ایک دن تو داعش گروہ کو دہشت گرد کا نام دیا جائے اور دوسرے دن انقلابی۔ ایک دن دہشت گرد گروہ منافقین کو دہشت گرد کہا جائے اور دوسرے انہیں بعض مغربی ملکوں میں پناہ دی جائے۔ اس سے قبل ایران کی دفتر خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے بھی داعش کے خلاف امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی تشکیل پر اپنے شکوک وشبھات ظاہر کیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲