11 ستمبر 2014 - 11:16
کشمیر کے سیلاب زدہ مسلمان عالمی برادری کی مدد کے منتظر+ تصاویر

ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سیلاب کے نتیجے میں آنے والی تباہی کے باعث جموں و کشمیر میں اب بھی پانج سے چھ لاکھ لوگ مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجسنی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں سیلاب کے نتیجے میں آنے والی تباہی  کے باعث جموں و کشمیر میں اب بھی پانج سے چھ لاکھ لوگ مدد کا انتظار کر رہے ہیں۔
ریاست جموں و کشمیر میں دو ستمبر کو شروع ہوئی بارش سے آنے والے سیلاب کا قہر گزشتہ ایک سو نو سالوں کا سب سے خوفناک سانحہ بتایا جا رہا ہے۔ گزشتہ آٹھ دنوں سے سیلاب کے پانی میں ڈوبے سرینگر سے اب تک تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد کو بچا لیا گیا ہے لیکن صورتحال اب بھی بدتر ہے۔ تقریبا چھ لاکھ افراد تک امداد نہیں پہنچ پائی ہے۔
سب کی توجہ فی الحال سری نگر پر ہی مرکوز ہونے کے باعث کشمیر کے دیگر اضلاع کی صورت حال کی کوئی خاص اطلاعات نہيں مل رہی ہیں۔ رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں زندہ بچنے والوں اور مرنے والوں کے اعداد و شمار کی بھی کوئی خبر نہیں ہے۔
سیلاب سے بری طرح متاثر وادی کشمیر میں بدہ کو سطح آب گھٹنے سے انتظامی اور فوجی امدادی ٹیموں کے لئے سیلاب میں پھنسے لاکھوں لوگوں تک پہنچنا تھوڑا آسان ہوا ہے لیکن راحت کاموں کی رفتار کو لے کر لوگوں کی ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں پانی سے ہونے والی بیماریوں کے انفیکشن کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ امدادی کارکنوں نےبتیس ہزار پانچ سو افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا ہے ۔ متعدد ایجنسیوں کی طرف سے جاری امدادی مہم میں اب تک اسی ہزار افراد کو نکالا جا چکا ہے۔
ہندوستان کے سیکورٹی ترجمان کرنل جی ڈی گوسوامی نے جموں میں کہا کہ عام طور پر سطح آب گھٹنے لگی ہے لیکن دریائے کے ارد گرد کے نچلے علاقوں میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرینگر میں سیلاب کے بعد سطح آب تین سے چار فٹ کم ہو گئی ہے لیکن ولر جھیل میں پانی کی سطح چھ انچ بڑھی ہے۔
گوسوامی نے کہا کہ راجباگ، جواہر نگر، گوگجي باغ اور شوپورا علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ اور یہاں امدادی کاموں میں تیزی لائي گئي ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲