اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد فرائض میں شامل ہے، مصیبت زدہ بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑینگے، تمام سیاسی جماعتیں اختلافات کو بھلا کر عوام کی خدمت کریں، مسائل صرف دھرنوں سے نہیں بات چیت سے حل ہونگے، امدادی تنظیمیں اور مخیر حضرات بھی اپنا کردار ادا کریں، حکومت سیلاب زدگان کو خیموں، کمبلوں، ادویات اور خوراک سمیت اشیائے ضروریہ کی فی الفور فراہمی یقینی بنائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر صوبہ خیبرپختونخواہ کے صدر علامہ رمضان توقیر، صوبہ پنجاب کے صدر علامہ مظہر عباس علوی اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے آئے ہوئے عمائدین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علامہ عارف واحدی نے کہا کہ اس وقت پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں بدترین سیلاب کا ہمارے ہم وطن سامنا کر رہے ہیں ایسے حالات میں انہیں تنہا نہیں چھوڑینگے اور جس حد تک ممکن ہو سکا امدادی کاموں کو جاری رکھا جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں صوبائی صدور کو بھی خصوصی ہدایات دیں۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عمائدین سے گفتگو کے دوران علامہ عارف واحدی نے کہاکہ حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں پر نہ صرف افسوس ہے بلکہ قیمتی انسانی جانوں اور مالی نقصانات پر بھی دلی دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ذمہ داران اس سلسلے میں اقدامات اٹھائے، ڈیمز بنائے جاتے تو نہ صرف سیلاب سے بچا جاسکتا تھا بلکہ ملک میں توانائی بحران کا خاتمہ بھی ممکن بنایا جاسکتاہے اگر اس جانب توجہ ہی نہیں دی جارہی۔ اس موقع پر انہوں نے مزید کہاکہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عوام کی خدمت میں مصروف ہو جائیں جبکہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے بھی اپنے احتجاج کو مختصر کریں کیونکہ مسائل صرف دھرنوں سے حل نہیں ہوتے اس کیلئے بامعنی بات چیت ضروری ہے اس وقت پورے ملک کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے امدادی تنظیموں اور مخیر حضرات سے بھی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں وہ اپنے دکھی بھائیوں کی ہر ممکن مدد کریں۔ اس موقع پر انہوں نے وفاقی و صوبائی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ متاثرین سیلاب کیلئے فی الفور خیمے، کمبل، ادویات اور خوراک سمیت اشیائے ضروریہ بغیر کسی توقف کے بھجوائی جائیں بعد ازاں علامہ عارف حسین واحدی نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام متاثرہ علاقوں میں ریلیف کیمپ لگائے جائیں اور ان بلاتفر یق رنگ و نسل و مذہب ان کی امداد کی جائے اس سلسلے میں جو ممکن تعاون ہو سکا وہ بھی اپنی جماعت کی جانب سے فراہم کریں گے۔
.......
/169