ابنا: سیاسی جرگہ کے اراکین نے سراج الحق کی قیادت میں اس ملک کے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور گزشتہ روز تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں کی تفصیلات سے آگاہ کیا جس کے بعد وزیراعظم نے بھی سیاسی کشیدگی کو ختم کرنے کے لئے ایک مسودہ تیار کرنے کے لئے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسودے میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے 4 کے بجائے 50 حلقے کھولے جانے کی تجویز پیش کی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ میں دھاندلی ثابت ہو جاتی ہے تو پھر حکومت کے پاس استعفوں کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ کہا جا رہا ہے کہ مسودے کے بنیادی نکات پر تینوں فریقوں نے آمادگی کا اظہار کیا ہے اور جن نکات پر اختلاقات ہیں ان پر پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں تبادلۂ خیال کیا جائے گا اور جو بھی مسودہ تیار کیا جائے گا اس پر تمام سیاسی جماعتیں ضامن ہو ں گی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مقدمے اور تحقیقات پاکستان عوامی تحریک کی مرضی کے مطابق ہوں گی، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی اصلاحات پر بھی فریقین نے آمادگی ظاہر کی ہے۔
سیاسی جرگہ آج دوبارہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے رہنماؤں سے ملاقات کرے گا اور مسائل کے حل کے لئے مجوزہ مسودے کی تیاری کے حوالے سے مذاکرات کرے گا۔ اس موضوع پر ہمارے ساتھی نے پاکستان کے تجزیہ نگار جاوید صدیق سے گفتگو کی اور ان سے پوچھا کہ پارلیمنٹ ایک جانب ہے اور دوسری جانب عمران خان اور علامہ طاہرالقادری اور ان کی اتحادی جماعتیں ہیں جبکہ سیاسی جرگہ نے بھی اپنی کوششیں شروع کر دی ہیں ۔آپ اس پیش رفت کو کس طرح دیکھتے ہیں؟ اس پر ان کا کہناتھا۔
جاوید صدیق کا انٹرویو سننے کے لیے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجیے۔
آپ دنیا کے مہذب و باشعور جمہوری معاشروں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ ریاستی پالیسیوں کے خلاف لاکھوں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آ کر پر امن احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں اور ریاستی مشینری ان کے احتجاج میں کوئی رخنہ نہیں ڈالتی اور کہیں خونی سانحہ رونما نہیں ہوتا لیکن شاید پاکستان میں آئین و قانون کی پاسداری اور جمہوری اقدار کی حفاظت کرنا حکمرانوں نے سیکھا ہی نہیں یہ سیاستدان جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو انھیں آئین و قانون کی کتاب کا ایک ایک صفحہ ازبر ہوتا ہے لیکن جب اقتدار میں آتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔
پاکستان میں جاری سیاسی بحران کے امکانی حل کے حوالے سے سابق صدر آصف علی زرداری، الطاف حسین، سراج الحق، اسفندیار ولی اور دیگر سیاستدانوں نے جو بھی تجاویز و مشورے دیے سب کو بالائے طاق رکھتے ہوئےحکومت اب بھی اپنے موقف پر قائم ہے کہ وزیراعظم استعفی نہیں دیں گے جبکہ علامہ طاہرالقادری اور عمران خان بھی اپنی ضد پر قائم ہیں یہاں تک کہ آرمی چیف نے بھی وزیراعظم کو گزشتہ ملاقاتوں کے دوران افہام و تفہیم اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے جاری سیاسی بحران حل کرنے کا مشورہ دیا۔ آرمی چیف کی عمران خان اور مولانا طاہر القادری سے ملاقاتیں بھی بےنتیجہ رہیں۔ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی میں کہا کہ فوج نے ثالثی کا کردار مانگا اور نہ ہی ہم نے کبھی ایسی خواہش کا اظہار کیا۔ جس سے ہر دو جانب کئی غلط فہمیوں نے جنم لیا۔ تاہم آئی ایس پی آر نے وضاحت کر دی کہ وزیر اعظم نے آرمی چیف سے سہولت کار کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی جس پر جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور طاہرالقادری سے ملاقاتیں کیں۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان غیر یقینی کی صورتحال سے گزر رہا ہے جس میں ہر شخص پریشان ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ کوئی بوٹوں کی آوازیں سن رہا ہے تو کسی کو اس بات پر غصہ ہے کہ لوگ تبدیلی کے لیے نکلے کیوں؟ لیکن ان دانشوروں اور تھنک ٹینکوں کو یہ بات نظر نہیں آ رہی ہے کہ لوگ اس نام نہاد جمہوریت سے بیزار ہو چکے ہیں۔ مگر ڈکٹیٹرشپ بھی کسی کو پسند نہیں۔ جمہوریت عوام کے حقوق سلب کرنے کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق ان کو دینے کا نام ہے مگر اس وقت ہر ایک کو اپنی اپنی پڑی ہے مگر عوام کے حال کی کسی کو خبر نہیں ہے۔
ان کے مسائل پر نہ دھرنے ہو رہے ہیں نہ تقریریں مگر عوام کو صرف یہ امید ہے کہ شاید ایسی تبدیلی آ جائے جو عام آدمی کے مسائل کو کم کر دے۔ 35 پنکچروں سے شروع ہونے والی بات اب وزیر اعظم کے استعفے تک جا پہنچی ہے اگر شروع میں ہی 4 حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروا دی جاتی تو ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا اور رہی سہی کسر ماڈل ٹاؤن کے واقعے نے پوری کر دی اگر اسی وقت ایف آئی آر درج کر کے شفاف تحقیقات کروا دی جاتیں تو حالات اس حد تک خراب نہ ہوتے بلکہ حکومت کا بھرم رہ جاتا۔ بھلا ہو ان وزیروں مشیروں کا جنھوں نے اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے فریقین کو ایسے مشوروں سے نوازا کہ آگے بڑھنا بھی مشکل اور پیچھے ہٹنے میں بھی رسوائی دامن گیر ہے۔
.......
/169