اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کی النخیل نیوزایجنسی نے متحدہ عرب امارات کے الآن ٹی وی چینل کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ داعش، شام کے عوام کا زیادہ سے زیادہ تعداد میں قتل کرنے کے مقصد سے بایولوجیکل ہتھیار بنانے کی کوشش میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ بات شام کے فوجیوں کو اس وقت معلوم ہوئی جب انھوں نے داعش کے زيرکنٹرول ایک علاقے کو آزاد کرایا۔اس علاقے سے حاصل ہونے والے ایک کمپیوٹر سے پتہ چلا ہے کہ تیونس کا ایک طالب علم جو فزكس اور كیمسٹری میں تعلیم حاصل کر رہا تھا وہ اپنی یونٹیورسٹی سے غائب ہے یونیورسٹی نے اس طالب علم کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ 2011 سے اس کا کوئی پتہ نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ مسلح دہشت گرد گروہوں کے مفتيوں کا کہنا ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف عام تباہی پھیلانے والے مہلک ہتھیاروں کا استعمال جائز ہے جو ہمارے خیالات کو نہیں مانتے۔
واضح رہے کہ کچھ دنوں پہلے اس بات کے خبر ملی تھی کہ شام میں سرگرم دہشت گردوں نے وہاں کے عام لوگوں کے خلاف کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ بعد میں کئی تنظیموں نے اس بات کی تصدیق بھی کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲