ابنا: غزہ پر اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے دوران موجود اکثر بین الاقوامی ماہرین اور ڈاکٹروں کے مطابق، اسرائیل نے غزہ کی گنجان آبادی والے علاقوں پر بمباری میں ڈی آئی ایم ای دھماکہ خیز مواد کا استعمال کی ہے جسے امریکی ساخت کا راکٹ ہی لے جا سکتا ہے۔
ڈی آئی ایم ای سے پہنچنے والے زخم کہ جس کا استعمال 2009 کی صیہونی بمباری میں بھی کیا گیا تھا، دیگر ہتھیاروں سے پہنچنے والے زخموں سے مختلف ہوتے ہيں۔
غزہ میں بم کو ناکارہ بنانے والے دستہ کے رکن احمد ابودہیاہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں سینکڑوں فلسطینیوں کے قتل کے لیے استعمال کیے جانے والے ہتھیاروں میں یورینیم کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے بعض ایسے نئے ہتھیاروں کا بھی جن کی شناخت کرنے میں بین الاقوامی ماہرین بھی قاصر تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے آرمر پیرسنگ (اے پی) بموں کا بھی استعمال کیا، جن سے ایک مہیب دھماکہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد کی جانیں چلی جاتی ہیں۔
غزہ میں کسی بھی عمارت کو مکمل طور سے آگ میں جلا دینے کے لیے تھرموبیرک ہتھیاروں کا بھی استعمال کیا گیا۔
.......
/169