4 ستمبر 2014 - 14:16
کشمیر آسمانی قہر کی لپیٹ میں، موسلا دھار بارشیں، کئی گھر ڈھیر

ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے متعدد علاقے آسمانی قہر کی لپیٹ میں آ گئے ہیں دو روز کی موسلا دھار بارشوں نے وادی کے علاوہ پونچ راجوری کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا کر دی ہے

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے متعدد علاقے آسمانی قہر کی لپیٹ میں آ گئے ہیں دو روز کی موسلا دھار بارشوں نے وادی کے علاوہ پونچ راجوری کے مختلف علاقوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا کر دی ہے کئی لوگوں کے گھر ڈھیر ہو گئے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ دریائے جہلم اوراس کے معاون ندی نالوں میں طغیانی آنے کے بعد انتظامیہ نے الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام متعلقہ محکموں کو جنگی بنیادوں پر متحرک کردیا ہے۔ ایک درجن کے قریب چھوٹے پل ڈھ گئے، کئی واٹر سپلائی اسکیموں اور درجنوں تعمیرات کو نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ فلڈ کنٹرول کے مطابق وادی میں سیلاب کا خطرہ پیداہوگیا ہے۔ چیف انجینئر فلڈ کنٹرول نے میڈیا کو بتایا کہ شام 6 بجے تک سنگم میں پانی کی سطح 24 فٹ کے قریب تھی اور یہ خطرے کے نشان کو عبور کرگئی تھی جبکہ رام منشی باغ میں پانی کی سطح متواتر طور بڑھ رہی تھی اور یہ شام 6 بجے تک 15 فٹ کے قریب تھی۔ اس دوران وادی میں 36 افراد کو بچالیا گیا تاہم شرائے نامی گاؤں میں نالہ فیروزپورہ ٹنگمرگ میں 7 مزدور دیر رات گئے تک پھنسے تھے۔ جنہیں باہر نکالنے کےلئے کوششیں کی جارہی تھیں۔ ادھر پونچھ اور مہور میں بی ایس ایف اہلکار سمیت 10 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان، پلوامہ، کولگام اور اننت ناگ میں پولیس، فوج، ڈزاسٹر مینجمنٹ، سیول ڈیفنس اور فائر اینڈ ایمرجنسی کے علاوہ مختلف ریسکیو ٹیموں نے 200سے زائد کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جبکہ بچاؤکارروائی کیلئے فضائیہ کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ سادھنا ٹاپ، پہلگام ، سونہ مرگ اور چندن واڑی میں تازہ برفباری کی اطلاع ہے۔ تازہ بارشوں سے متعدد بستیاں زیر آب آگئی ہیں جبکہ کئی رابطہ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے نتیجے میں اِن علاقوں کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سنیچر تک بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے اور سیلاب کے خطرات میں مزید اضافے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲