1 ستمبر 2014 - 14:54
نئی امریکی پابندیاں، امریکی بوکھلاہٹ کی علامت

ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کو خارجہ پالیسی اور خاص طور پر اسلامی جمہوریۂ ایران کے بارے میں اس کی بوکھلاہٹ کی علامت قرار دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیۃ اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے فنلینڈ کے وزیر خارجہ "آرکی تیومیویا" کے ساتھ ملاقات میں ایران کے خلاف امریکہ کی نئی پابندیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عقلاء عالم اور یورپی یونین کے اعتدال پسند ملکوں سے یہ توقع ہے کہ وہ ان پالیسیوں کے بدترین نتائج سے امریکہ کو آگاہ کریں۔ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ نے ایٹمی مذاکرات کے راستے میں روڑے اٹکائےجانے کو سیاسی بہانہ قراردیا اورکہا کہ ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیاروں کو حرام قرار دیتا ہے اور یہ فیصلہ، ایران کی پالیسی میں بہت واضح اصول ہے لیکن ایسا لگتا ہےکہ مذاکرات کے بعض فریق مسئلے کے حل میں کوئي دلچسپی نہیں رکھتے۔ ہاشمی رفسنجانی نے مغرب کی غلط پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہ جو دہشت گروہ داعش کے وجود میں آنے کا باعث بنی ہے کہا کہ ان ملکوں کی غلط پالیسی سے ایسا دہشت گرد گروہ ووجود میں آیا ہے جو جدید ہتھیاروں سے لیس ہے اور سب کےلئے خطرہ بنا ہوا ہے۔ فنلینڈ کے بھی وزریر خارجہ نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ  دنیا کے بعض ملکوں میں بد امنی کے حالات پیش نظر ان کا دورۂ ایران اہمیت کا حامل ہے کہا کہ سب کو مل کردہشت گردی کے خلاف ٹھوس مقابلہ کرنا چاہئے۔

.......

/169