اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراق کے صدر فواد معصوم نے اپنے ملک کی حکومت اور عوام کے خلاف دہشتگرد گروہوں، خاصطور سے داعش کے بڑھتے ہوئے خطرات اور پہنچنے والے نقصانات کے پیش نظر، ان گروہوں کا مقابلہ کرنے کیلئے عراق کے اعلی حکام کی شمولیت سے، ایک اعلی دفاعی کمیٹی تشکیل دیئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔ فواد معصوم نے کہا ہے کہ عراق کے صدر، وزیراعظم اور وزرائے خارجہ، دفاع اور خزانہ کی شمولیت سے، کمیٹی کی تشکیل سے، دہشتگرد گروہوں کا مقابلہ کرنے کی نئی صورت پیدا ہوگی جو بہت زیادہ موثر واقع ہوگی۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ عراق کی مختلف مذہبی وسیاسی شخصیات منجملہ اس ملک کے وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی، دہشتگرد گروہوں کا مقابلہ کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں دہشتگردوں کا وجود، ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ اور ملک کی ترقی و پیشرفت میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ داعش دہشتگرد گروہ نے، جسے بعض بیرونی اور اسی طرح علاقے کے بعض ملکوں کی حمایت حاصل ہے، عراق کے بعض شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور اس گروہ نے عراقی شہریوں خاصطور سے عورتوں اور بچوں کے خلاف، وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ عراق کے بارے میں اقوام متحدہ نے بھی اپنی رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ داعش دہشتگرد گروہ کے حملوں کے نتیجے میں اس ملک کے، ایک کروڑ ستّر لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جو اس ملک کی آبادی کا، ساٹھ فیصد حصہ ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے یہ رپورٹ، ایسے میں سامنے آئی ہے کہ کچھ عرصے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر دو ہزار ایک سو ستّر پاس کرکے عراق اور شام میں مختلف دہشتگرد گروہوں منجلہ داعش کا مقابلہ، اور اس گروہ کی حمایت کرنے والے ممالک کے خلاف، کاروائی کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عراق میں دہشتگرد گروہوں کی حمایت کرنے والے، علاقے کے بعض ممالک منجملہ ترکی اور سعودی عرب، اس قرارداد کے حق میں نہیں ہیں۔ اگرچہ بعض ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ عراق میں سرگرم عمل دہشتگردوں کے خلاف قرارداد کی منظوری، علاقے میں مغرب، خاصطور سے امریکہ کے ممکنہ فوجی اقدامات کی حمایت کیلئے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ، برطانیہ فرانس اور اسی طرح علاقے کے بعض ممالک کی جانب سے، جو ابھی کچھ عرصے قبل تک، شام میں حکومت مخالف کی حیثیت سے داعش دہشتگرد گروہ کو مسلّح کرنے کیلئے بجٹ کی منظوری دے رہے تھے، اس وقت متضاد پالیسی اختیار کئے جانے کے ساتھ، اس بات کا دعوی کیا جارہا ہے کہ وہ، عراق میں داعش دہشتگرد گروہ کے مقابلے کیلئے فوج اور فوجی سازوسامان روانہ کررہے ہیں۔
.......
/169