اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں ایک اسرائیلی خاتون کی کہانی بیان کی ہے اور لکھا ہے کہ اسرائیل میں دلالوں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے گردوں کی پیوندکاری بہت آسان ہے۔ اسرائیلی خاتون نے جس کا نام اوفيرا ڈرون بتایا گیا ہے، نیویارک ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں زور دے کر کہا ہے کہ ایک گردے کی پیوند کاری کے لئے اس نے ایک لاکھ 75 ہزار ڈالر دیا تھا اور طے تھا کہ یہ عمل کوسٹاریکا میں انجام دیا جائے گا۔
اس کے ساتھ ہی كوسٹاریكا کی عدالت میں ایسے دستاویز موجود ہیں جو اس بات کی علامت ہیں کہ اس گردے کو دینے والا ایک37 سالہ بے روزگار شخص تھا اور اسے اس گردے کے بدلے میں صرف 18 ہزار 500 ڈالر ملے ہیں۔ اس اسرائیلی خاتون نے کہا ہے کہ میری بہت بری حالت تھی، میری جسمانی حالت دن بدن بدتر ہو رہی تھی۔ میں سوچتی ہوں کہ اگر میں یہ جانتی کہ یہ کام غیر قانونی ہے پھر بھی میں اسے انجام دیتی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق انسانی اعضاء کی اسمنگلنگ میں اسرائیل نے حد سے زیادہ غیر مناسب کردار ادا کیا ہے۔
اسرائیل کی وزارت صحت کی رپورٹ کے مطابق اعضاء کا عطیہ کرنے کے لئے10 فیصد سے کم اسرايليوں نے نام لکھوایا ہے اور اس مسئلہ کے کچھ حصہ کا تعلق مذہبی محدویت سے ہے۔ كوسٹاریكا کے حکام نے گزشتہ سال اعلان کیا تھا کہ انہوں نے انسانی اعضاء کی اسمنگلنگ کرنے والے ایک بین الاقوامی گروہ کا انکشاف کیا تھا جو اسرائليوں کو اور مشرقی یورپ کے ممالک میں گردے فروخت کرنے میں مہارت رکھتا تھا۔
یہ ایسی حالت میں ہے جب سال 2012 میں انسانی اعضاء کی اسمنگلنگ کرنے کے الزام میں کم سے کم 10 اسرائليوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ صیہوني حکومت نے سال 2009 میں اعتراف کیا تھا کہ سال 1990 میں جو فلسطینی مارے گئے تھے اس نے ان کے اہل خانہ کی اجازت کے بغیر ان کے جسم کے بہت سے اعضاء نکال لئے تھے۔
.......
/169