اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رياست ميسوري ميں سياہ فام امريکي نوجوان مايکل براؤن کے قتل کے بعد شروع ہونے والے احتجاجي مظاہروں اور صورتحال کو قابو ميں رکھنے کي خاطر اس پوليس افسر کا نام جاري کرديا گيا ہے کہ جس کي گولي سے سياہ فام نہتے نوجوان کي موت واقع ہوئي ہے-
فرگوسن سٹي کے پوليس چيف نے بتايا ہے کہ مايکل براؤن کو جس پوليس افسر نے گولي ماري تھي اس کا نام " ڈرين ولسن " ہے -
اس خبر کي اشاعت کے بعد فروگسن سٹي کے باشندوں کا غم و غصہ مزيد بھڑک اٹھا ہے کيونکہ پولیس نے دعوي کيا کہ مايکل براؤن چوري کي وارداتوں ميں پوليس کو مطلوب تھا-
پوليس نے اس کے ساتھ ہي ايسي "سي سي ٹي وي فوٹيج" بھي جاري کي ہيں جس ميں ايک دکان ميں ايک سياہ فام نوجوان کو چوري کرتے ہوئے دکھايا گيا ہے - پوليس کا دعوي ہے فوٹيج مايکل براؤن کي ہے- تاہم عيني شاہدين اور پوليس کے دعوے ميں خاصا تضاد پايا جاتا ہے اور اسي چيز نے لوگوں کے غم و غصے کو بھڑکا ديا ہے-
دريں اثنا مقتول سياہ فام نوجوان کے والدين نے پوليس کے متعصبانہ رويئے پر اپنے سخت غم و غصے کا اظہار کيا ہے -انہوں نے سي سي ٹي وي فوٹيج کو جعلي اور ميڈيا پراس کي اشاعت کا مقصد مايکل براؤن کي شخصيت کے بارے ميں لوگوں کو گمراہ کرنا بتايا ہے -
اس سلسلے ميں مايکل براؤن کے ايک عزيز نے اس کے والدين کي ترجماني کرتے ہوئے کہا کہ پوليس چيف نے جو ويڈيو جاري کي ہے وہ ہماري نظر ميں رائے عامہ کو منحرف کرنے کي ايک کوشش ہے جس کا مقصد اصل حقيقت پر پردہ ڈالنا ہے-
عام لوگوں کا بھي خيال ہے کہ کنفيلڈ ميں جو کچھ پيش آيا ہے وہ کوئي ايسي چيز نہيں ہے کہ جس کا اسٹور ميں رونما ہونے والے واقعے سے کوئي ربط ہو، اور ويسے بھي پورے يقين سے نہيں کہا جاسکتا کہ جس شخص کو سي سي ٹي وي فوٹيج ميں چوري کرتے ہوئے دکھايا گيا ہے وہ مايکل براؤن ہے-
مقتول سياہ فام نوجوان کے والدين کا کہنا ہے کہ مايکل براؤن نے خود کو پولس کے حوالےکرديا تھا ليکن اس کے باوجود پولیس افسرنے اس پر فائرنگ کرکے اس کو قتل کرديا - انہوں نے کہا کہ جو کچھ پوليس حکام کہہ رہے ہيں وہ باالکل جھوٹ ہے-
امريکا ميں شہري حقوق کي مدافع تنظيموں کا کہنا ہے پوليس کي فائرنگ کا نشانہ بننے والا سياہ فام نوجوان مسلح نہيں تھا-
امريکا ميں سياہ فاموں کے ساتھ پوليس کا متعصبانہ رويہ ايک معمول ہے اورعام طور پر اس قسم کے واقعات کو منظر عام پر نہيں آنے ديا جاتا- مايکل براؤن کے قتل کا واقعہ بھي انہي سيکڑوں واقعات ميں سے ايک ہے جس نے کئي دنوں سے امريکي حکام کي نينديں حرام کردي ہيں-
.......
/169