17 اگست 2014 - 11:19
پاکستان میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا دھرنا، حالات کس نہج پر جائیں گے؟

انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری نے کہا کہ ان کا جینا مرنا پاکستان کے عوام کے ساتھ ہے، انقلاب کی فتح تک کارکنوں کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 14 اگست کو لاہور سے اسلام آباد جانے والےآزادی اور انقلاب مارچ کے شرکاء نے اس وقت اپنا پڑاؤ اسلام آباد میں ڈال دیا ہے۔ جس سے اس ملک کے سیاسی بحران کی شدت و حدت میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔
انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری نے کہا کہ ان کا جینا مرنا پاکستان کے عوام کے ساتھ ہے، انقلاب کی فتح تک کارکنوں کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔
اسلام آباد میں انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ وہ عظیم انقلاب مارچ پر قوم کی ماؤں، بہنوں بیٹیوں، بزرگوں اور بچوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ دھرنا نہیں ہے انقلاب مارچ ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ہمیں پورے 10 دن قید کیا گیا، ہم پر کھانا پینا اور ادویات بند کردی گئیں۔ ملک کے سیاسی ادوار میں اتنا بڑا ظلم کبھی نہ ہوا لیکن ہم پرامن رہے کیونکہ ہم پرامن تھے اور ہم آئین اور قانون پر یقین رکھتے ہیں اگر کوئی گولی بھی چلائے تو کارکن اس کا جواب نہیں دے گا، ہم اپنی زندگیاں قربان کردیں گے لیکن تشدد اور دہشتگردی کا راستہ کسی صورت نہیں اپنائیں گے۔ ہم کسی طبقے پر جبر و تشدد کو جائز نہیں سمجھتے، انہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ وہ پہلے شخص ہیں جس نے عالم اسلام میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے خلاف 600 صفحات پر مشتمل فتویٰ لکھا۔ علامہ طاہر القادری نےاب سے تھوڑی دیر قبل انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف مستعفی نہیں ہوتے اور گرفتار نہیں کئے جاتے اس وقت تک اسلام آباد سے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے انھیں ملک سے فرار ہونے میں مدد دی تو ان کے خلاف بھی ہم ایکشن لیں گے۔ انہوں نے پاکستان سے فرقہ واریت کے خاتمے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی دوسرے فرقے کو کافر کہنے کی اجازت نہیں دیں گے اور ملک سے تکفیریت کا خاتمہ کریں گے۔
بلا شبہ علامہ طاہر القادری کا اپنا ایک حلقہ ہے اور وہ اپنے مریدوں کے پیر ہیں اور وہ ان کی بات مانتے بھی ہیں اور ان پرعمل بھی کرتے ہیں اوراس وقت جاری دھرنے اور پیپلز پارٹی کے دور حکومت کے دھرنے میں آپ نے شاید اس کا مشاہدہ بھی کیا ہو گا، البتہ اس بار وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ اس بار ان کے ساتھ مجلس وحدت مسلمین، سنی اتحاد کونسل اورچوہدری برادران ہیں اور دوسری جانب عمران خان ہیں جو آزادی مارچ کے کرتا دھرتا ہیں اور اس ملک میں عوامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں اور موجودہ حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں اس لئے کہ ان کی نگاہ میں نواز شریف حقیقی معنوں میں عوامی ووٹ کے ذریعے بر سر اقتدار نہیں آئے ہیں بلکہ انہوں نے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی اور اقتدار پر براجمان ہوئے اور آج صبح جب وہ آزادی مارچ کے شرکاء کے ساتھ اسلام آباد پہنچے توموسلادھار بارش میں عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کے پاس اب صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ استعفیٰ دیں اور دوبارہ انتخابات کرائیں کیونکہ میں اس وقت تک یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک نوازشریف استعفیٰ نہیں دیتے۔
عمران خان نے کہا کہ کبھی کبھی قوموں کی تاریخ میں یہ موقع آتا ہے کہ اللہ انہیں اپنی تقدیر بدلنے کا موقع دیتا ہے اب ہمیں یہ موقع ملا ہے ہمیں اسے گنوانا نہیں ہے۔
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مجرموں کو تحفظ دیا جاتا ہے اس لیے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک ملک کو حقیقی آزادی نہیں ملے گی، اسلام آباد سے نہیں اٹھیں گے ۔
عمران خان اور علامہ طاہرالقادری کی جانب سے اس قسم کے مطالبات کے سامنے آنے کے بعد کیا اب یہ قیاس آرائیاں ماند پڑ جائیں گی کہ سسٹم پٹری سے اتر جائے گا؟ جمہوریت کو خطرہ ہے تو اس سے عمران خان پر لوگوں کا اعتماد اور بڑھے گا اور یہ کہ کیا الیکشن کمیشن میں اصلاحات دو تین مہینوں میں ہو پائیں گی اور اگر نہیں ہو پائیں گی تو کیا ایک ایسی حکومت بالآخر سامنے آئے جو نگراں حکومت تو ہو مگر تین مہینوں کی مدت کے لیے بنی ہو، لیکن ایسی حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں، ہاں ایسی گنجائش عدالت اپنے فیصلے سے نکال سکتی ہے۔ مگر ایسا فیصلہ خود نظریہ ضرورت کے تحت ہو گا۔ البتہ اس درمیان سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی کا نوجوان طبقہ اب سیاست میں متحرک ہوچکا ہے ۔
البتہ اب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اس دھرنے کا فوری طور پر پاکستان کی سیاست پر کیا اثر پڑتا ہے؟ کیا کوئی کوئی توڑ پھوڑ ہو گی؟ لوگوں پر آنسو گیس پھینکی جائے گی؟ لوگ بے قابو ہو جائیں گے۔ میاں صاحب استعفیٰ دیں گے، کوئی نگراں حکومت یا ٹیکنو کریٹ حکومت بنے گی۔ اس پر وفی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا؟

.......

/169