12 اگست 2014 - 08:26
غزہ، مزاحمت کے طریقہ کار میں زبردست تبدیلی کے آثار

ایران کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بریگیڈیر جنرل مسعود جزائري نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں جدوجہد کے طریقہ کارکے تبدیل ہونے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف بریگیڈیر جنرل مسعود جزائري نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں جدوجہد کے طریقہ کارکے تبدیل ہونے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزاحمت اور فلسطینی انتفاضہ کے میدان میں تازہ صورتحال کی تشریح اور غزہ کی جنگ میں پوشیدہ عناصر کے سلسلے میں کہا کہ غزہ پر صیہونیوں کے حملے کے زیادہ دنوں تک جاری رہنے کی وجہ سے فلسطینی اپنی حفاظت کے لئے نئے طریقہ کار اپنانے پر مجبور ہیں۔ بریگیڈیر جنرل مسعود جزائری نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے جنگ کا میدان اور مزاحمت کے پھیلنے سے دشمن گھٹنے ٹیک دے گا، کہا کہ مقبوضہ فلسطین کی سرزمین کی ساخت اس طرح ہے کہ صیہونیوں کے پاس فلسطینی جيالوں کا مقابلہ کرنے کا امکان کم سے کم ہو جاتا ہے۔

ایران کے ڈپٹی چیف آف آرمی اسٹاف نے ساز باز مذاکرات کی تاریخ اور اس کی ناکامی کی وجوہات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ صیہونیوں کے ساتھ فلسطینیوں کے مذاکرات کا نتیجہ، مظلوم فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملنے کی شکل میں سامنے نہیں آئے گا اور صیہونیوں کی شیطانی اور ان کے غاصبانہ رجحان کے پیش نظر، غاصبوں سے جد و جہد اور مزاحمت کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
بریگیڈیر جنرل مسعود جزائری نے زور دیا کہ فلسطینی عوام خاص طور پر نوجوان اور مزاحمتی طاقتیں، صیہونی دشمن سے مقابلے کا قیمتی تجربہ رکھتی ہیں اور مقبوضہ سرزمین پر مزید شدید جھڑپیں ہونے سے غاصبوں کے پاس مقدس فلسطین کی سرزمین چھوڑنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچے گا۔

.......

/169