12 اگست 2014 - 07:51
اسرائیلی تربیت یافتہ دہشتگرد قاتل کو واجب الاطاعت خلیفہ ماننا کون سا اسلام سکھاتا ہے، مولانا مسرور عباس انصاری

جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا ہے کہ داعش اور اس کا دہشت گرد لیڈر عراق کے شہروں میں بےگناہ بچوں، عورتوں اور شہریوں کے قتل عام اور مقدس مقامات کی توہین کا مرتکب ہوا ہے اور ہم ان بدنام زمانہ دہشت گردوں کی طرف سے بے گناہ شہریوں کے اجتماعی قتل عام اور مسلمانوں کے متبرک اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق جموں و کشمیر اتحاد المسلمین نے تحریک حریت کے سید علی گیلانی کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے جس میں موصوف نے عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے بارے میں ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اپنانے کی بات کہی ہے، علی گیلانی نے ایک مقامی میگزین کو مفصل انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ عراق میں نام نہاد اسلامی ریاست اور خلیفہ کے اعلان پر وہ اور ان کا فورم کوئی رائے زنی نہیں کریں گے بلکہ ’’ویٹ اینڈ واچ‘‘ پالیسی پر کاربند رہنے کا فیصلہ کیا ہے، جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس نے اپنے بیان میں اس منافقانہ طرز عمل اور مصلحت پسندانہ سیاست پر انتہائی تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود کو کشمیر کا قائد انقلاب کہلانے والے علی گیلانی اب بھی بےگناہ لوگوں کا سفاکانہ قتل عام کرنے والے نام نہاد اسلامی خلیفہ اور اسرائیلی تربیت یافتہ داعش کے رہنما ابوبکر البغدادی میں واجب الاطاعت خلیفہ ہونے کی کسوٹی کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اسے خلفائے راشدین کے ساتھ منسوب کیا جا سکے، مسرور عباس نے علی گیلانی سے سوال کیا ہے کہ اسلامی عدالت، انصاف اور مساوات کے علمبردار حضرت علی (ع) کو بےگناہ اور نہتے عوام کے قاتل کے ساتھ موازنہ کرنے کا سبق انہیں کون سا اسلام سکھاتا ہے، سادہ اور پرہیزگارانہ زندگی گزارنے والے خلیفہ حضرت ابو بکرؓ کو عراق اور شام کی دوشیزاؤں سے جبری جہاد النکاح انجام دینے والے اور ان کا جنسی استحصال کرنے والے بغدادی سے وہ کس طرح نسبت دے سکتے ہیں، کیا ایک کُرتے پر قناعت کرنے والے اسلامی خلیفہ حضرت عمرؓ کو چالیس لاکھ ڈالر کی گھڑی پہننے والے کے درمیان انہیں کوئی فرق نظر نہیں آتا اور قرآن کی تلاوت کے دوران شہید ہونے والے حضرت عثمانؓ کو اس فرد اور تنظیم سے کیسے شباہت دی جا سکتی ہے جو قرآن مجید کی بعض مقدس آیتیں حذف کرکے اسے بدل دینے کے مکروہ منصوبے کا برملا اعلان کرچکے ہیں۔

اتحاد المسلمین کے صدر نے کہا ہے کہ ہم علی گیلانی سے سوال کرتے ہیں کہ ان دہشت گردوں نے مقدس مقامات پر حملے کرکے انہیں ویران کیا ہے اور خود کش حملوں کے ذریعے شیعہ مسلمانوں کو سرعام قتل کرنا جائز جانتے ہیں مگر آج تک فلسطین یا غزہ کے مظلوم عوام یا کشمیریوں کے ساتھ کیوں زبانی ہمدردی بھی نہیں جتائی ہے، علی گیلانی کے تجاہل عارفانہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اتحاد المسلمین واضح کرنا چاہتی ہے کہ عراق میں کوئی فرقہ واریت یا مسلکی لڑائی نہیں بلکہ یہ سامراجی طاقتوں خصوصاً اسرائیل کی شہہ پر مسلمان ممالک کو کمزور کرکے ان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے اور مختلف مسلکوں کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے جو آج کل اس بغدادی کے ذریعے انجام دیا جا رہا ہے، مولانا مسرور نے کہا ہے کہ داعش اور اس کا دہشت گرد لیڈر عراق کے شہروں میں بےگناہ بچوں، عورتوں اور شہریوں کے قتل عام اور مقدس مقامات کی توہین کا مرتکب ہوا ہے اور ہم ان بدنام زمانہ دہشت گردوں کی طرف سے بےگناہ شہریوں کے اجتماعی قتل عام اور مسلمانوں کے متبرک اور مقدس مقامات کی بےحرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

.......

/169