12 اگست 2014 - 06:19
عراق میں داعش کے اقدامات پر اقوام متحدہ کو تشویش

اقوام متحدہ کے عہدیداروں نےعراق کے شہروں موصل، تلعفراور سنجار میں تکفیری دہشت گرد گروہ، داعش کےحالیہ وحشیانہ اقدامات پر تشویش ظاہر کی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے عہدیداروں نےعراق کے شہروں موصل، تلعفراور سنجار میں تکفیری دہشت گرد گروہ، داعش کےحالیہ وحشیانہ اقدامات پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس عالمی ادارے کے حکام نے عراقی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آپس میں متحد ہو کر، عراق کے مستقبل کو خطرے سے دوچار کرنے والے اس تکفیری گروہ کو اس کے دہشتگردانہ اقدامات کاجواب دیں۔
درایں اثنا عراق کی انسانی حقوق کی وزارت نے بھی اعلان کیا ہے کہ وزارت خارجہ کی ہم آہنگی سے عراق میں انسانی صورت حال کے بارے میں ایک ہنگامی اجلاس کے انعقاد پر مبنی درخواست، بہت جلد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پیش کرنے والی ہے۔ عراق کے حقوق انسانی کے وزیر " محمد شیاع السوڈانی" نے واضح الفاظ میں کہا کہ عالمی برادری کی جانب سے صرف عراق میں انسانی صورت حال کے خلاف صرف مذمتی بیان جاری کیاجانا کافی نہیں ہے۔ حالیہ دنوں کے دوران عراق کے شہر سنجار میں خاص طور سے اس شہر کے "ایزدیوں " کے خلاف تشدد کے واقعات کا یہ تقاضا ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام عمل میں لایا جائے۔
ادھر بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے "یونیسف" نے رپورٹ دی ہے عراق کے شمالی علاقے میں تکفیری دہشت گروہ داعش نے "ایزدی" اقلیت سے تعلق رکھنے والے چالیس عراقی بچوں کو قتل کردیا۔ موصولہ رپورٹیں اس امر کی بھی غماز ہیں کہ سنجار شہر کے عوام، تکفیری دہشت گرد گروہ کے ڈر سے اپنے گھر اور مال و اسباب چھوڑ کر پہاڑوں پر فرار کرگئے ہیں اور تقریبا پچیس ہزار عراقی بچے جو تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ظلم کے خوف سے اپنے گھرانے کے ہمراہ پہاڑی علاقوں میں پناہ گزیں ہیں، انھیں پینے کے پانی اور دیگر ضروریات کے فقدان کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
دوسرا المیہ یہ ہے کہ عراق کے صوبہ نینوا کے شہر سنجار کی ایزدی، عیسائی اور مسلمان قوم سے تعلق رکھنے والی 35 سال سے کم عمر کی خواتین کو تکفیری، بعثی اور دہشت گرد گروہ داعش سے شدید خطرہ لاحق ہے ۔ انھیں یا تو کنیز کی حیثیت سے بیچ دیا جائے گا یا داعش کے سرغنوں سے ان کی زبردستی شادیاں کر دی جائیں گی۔ عراقی پارلیمنٹ کی ایک خاتون نمائندہ "ویان دخیل" نےشہر سنجار کے عوام کی مظلومیت پر آنسو بہاتے ہوئے کہا کہ تکفیری گروہ داعش کے افراد اس شہر میں بچّوں اور مردوں کا قتل عام کر رہے ہیں اور اب تک 500 سے زائد ایزدی قوم سے تعلق رکھنے والے افراد، تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں اور پانچ سو سے زائد ایزدی خواتین کو کنیزکی حیثیت سے اغوا کرکے تلعفر کے قریب جیلوں قید کر دیا گیا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران عراق کے صوبہ الانبار میں تکفیری گروہ داعش نے عوام کا اجتماعی قتل عام کیا ہے۔ ایسا نظر آتاہے کہ ان واقعات میں بیرونی ہاتھ ہے اور اس مداخلت کا مقصد، عراق کو سیکورٹی بحران سے دوچار کرنا ہے ۔قطر اور سعودی عرب، ان ممالک میں شامل ہیں جو گزشتہ کئی برسوں سے تکفیری گروہ داعش کی مدد و حمایت اور انھیں ہتھیار فراہم کر رہے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے دا‏عش تکفیری گروہ کو، پورے خطے کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس دہشت گرد گروہ کے بعض حامی عرب ملکوں سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ علاقے کے امن واستحکام کے تحفظ کے لئے اپنی شیطنت سے دست بردار ہوجائیں۔
دریں اثنا عراق کےنئے صدر "فؤاد معصوم " نے عراق میں یورپی یونین کے نمائندے سے ہونے والی ملاقات میں عراق کے لئے یورپ کی سیکورٹی حمایت پر زور دیتے ہوئے عراق میں دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنےمیں یورپی ملکوں کے فعال کردار پر تاکیدکی۔ عراقی صدر نے واضح الفاظ میں کہا کہ دہشت گردی صرف عراق میں محدود نہیں ہے اگر اس کا مقابلہ نہیں کیاگیا تو یہ یورپ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

.......

/169