اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق یہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوگئی جب ایک مدرسہ کو جزوی طور پر نقصان پہونچایا گیا ۔ عبادت گاہ کے مسئلہ پر تنازعہ کے باعث یہ فساد بھڑک اٹھا ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس بریجس سریواستو نے کہا کہ ایک خانگی مدرسہ میں نماز جمعہ کے لیے مسلمان جمع ہوئے تو یہاں پر اکثریتی فرقہ کی جانب سے اعتراض کیا گیا اور کہا گیا کہ مدرسہ سے متصل اراضی پر ٹین کی چھت ڈال کر نماز پڑھنے کی ایسی کوئی روایت نہیں رہی ہے ۔ کل رات دیر گئے مدرسہ کی نئی دیوار کو جزوی طور پر نقصان پہونچایا گیا تھا جس کے بعد جھڑپ ہوئی ۔ پولیس اور ریاپڈ ایکشن فورس کی زائد فورس تعینات کر دی گئي ہے۔
دوسری طرف کانگریس پارٹی کے نائب صدر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ ریاست اترپردیش میں جان بوجھ کر فسادات کرائے جارہے ہيں ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش میں جان بوجھ کر اس لئے کشیدگی پھیلائي جارہی ہے تاکہ بھائی کو بھائي سے لڑا کر انھیں متحد نہ ہونے دیا جائے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ غربت بے روزگاری اور عدم مساوات کے خلاف جنگ نہ لڑ سکیں ۔
.......
/169