اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے سکیورٹی فورسز نے ریاست کاٹسینا سے جن تین افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں 8 سے 10 سال کی دو لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کے جسموں کے بارود سے بھری بیلٹس لپٹی ہوئی تھیں۔
نائجیریا کے شدت پسند تنظیم بوکو حرام پر الزام ہے کہ وہ اب خواتین کو بھی خود کش بمباروں کی صورت میں جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔
گذشتہ ہفتے سے یہ خبر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایک افواہ گردش کرتی رہی ہے کہ نائجیریا کے شمال میں سب سے بڑے شہر کانو میں حملے میں چار نو عمر لڑکیوں نے حملہ کیا۔ تاہم حکومت اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتی ہے کہ بوکو حرام کی جانب سے اِغوا ہونے والی 200 سے زائد طالبات کو انسانی بموں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
لیکن دوسری جانب حکومت کے ہی ترجمان مائک عمیری نے اپنے بیان میں بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے کانو شہر سے جڑی ریاست کاٹسینا سے جن تین افراد کو حراست میں لیا ہے ان میں آٹھ سے دس سال کی دو لڑکیاں بھی شامل ہیں جن کے جسموں سے بارود سے بھری بیلٹیں لپٹی ہوئی تھیں۔
.......
/169