6 اگست 2014 - 14:41
جانئیے داعش کی تشکیل کے بارے میں کچھ اہم انکشافات

سابق امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اپنی نئی کتاب میں زور دیا کہ داعش کی امریکا اور مصر میں اخوان المسلمین کے درمیان مفاہمت کی بنیاد تشکیل ہونی تھی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ہیلری کلنٹن نے یادوں پر مبنی کتاب سے متعلق رپورٹ دی ہے کہ ہم نے عراق، شام اور لیبیا کی جنگ میں حصہ لیا اور سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن اچانک مصر میں تیس جون کو اخوان المسلمين کے خلاف انقلاب آیا اور 72 گھنٹے میں سب کچھ بدل گیا۔ ہم نے مصر میں اخوان المسلمين کے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ جزیرہ نماء سینا میں داعش کی حکومت قائم ہو۔ یہ بھی طے پایا تھا کہ جزیرہ نماء سینا کا ایک حصہ حماس کو اور ایک حصہ اسرائیل کو دے دیا جائے اور حلائب اور شلاطين کا حصہ سوڈان کو دے دیا جائے اور مصر کی حکومت السلوم علاقے میں لیبیا سے ملی سرحد کھولے۔

ہیلری کلنٹن نے اپن کتاب میں لکھا کہ یہ طے پایا تھا کہ پانچ جون 2013 کو اپنے یورپی اتحادیوں کے ساتھ اجلاس میں داعش کو باضابطہ طور پر منظوری دی جائےگی۔ میں نے 112 ممالک کا دورہ کیا تاکہ امریکہ کے کردار اور داعش کی حکومت کے قیام کے بعد اسے فوری طور تسلیم کرنے کے بارے میں کچھ دوست ممالک کے ساتھ ہوئے اتفاق کے بارے میں انہیں بتائیں لیکن اچانک سب کچھ آنکھوں کے سامنے تباہ ہو گیا۔

امریکا کی سابق وزیر خارجہ ہیلري کلنٹن نے اس کتاب میں مشرق وسطی کے سلسلے میں واشنگٹن کے منصوبوں کے بارے میں لکھا کہ ہم مصر میں اخوان المسلمين اور داعش کے ذریعے علاقے کے ٹکڑے کر دیتے اور پھر اخوان المسلمين میں اپنے عناصر کو خلیج فارس کے ساحلی ممالک کے پیچھے لگاتے۔ یہ کام کویت سے شروع ہوتا اور پھر بالترتیب متحدہ عرب امارات، بحرین اور عمان تک پہنچتا۔ اس کے بعد عرب اور مغربی عرب علاقوں کا نقشہ مکمل طور پر بدل جاتا اور ہم تیل کے ذرائع پر مکمل طور پر قبضہ کر لیتے اور سمندری راستے بھی حاصل کر لیتے۔

امریکی وزیر خارجہ کی تحریری یہ بات سی آئی اے کے سابق جاسوس ایڈورڈ اسنوڈن کی طرف سے کئے گئے انکشافات کی تصدیق کرتی ہے کہ جس میں اسنوڈن نے داعش کو وجود عطا کرنے میں اسرائیل کے کردار سے پردہ اٹھایا تھا کہ اسرائیل کا ہدف اس دہشت گروہ کو اپنے مخالف ممالک کے خلاف استعمال کرنا ہے۔

امریکا کے سابق جاسوس اسنوڈن نے زور دیا کہ امریکی، برطانوی اور اسرائیلی خفیہ ایجنسیوں نے داعش کی تشکیل میں کردار ادا کیا ہے اور اسے شہد کی مکھی کے چھتے نامی مہم کے تحت وجود دیا۔ ایڈورڈ اسنوڈن نے انکشاف کیا کہ داعش کو اسرائیل کی مدد کے لئے بنایا گیا اور شہد مکھی کا چھتہ نامی مہم کا مقصد اسلامی نعرے کے ساتھ ایک ایسے گروہ کی تشکیل ہے جس میں پوری دنیا سے شدت پسند شرکت کریں اور تكفيري خیالات کے بنیاد پر ان ممالک کے خلاف ہتھیار اٹھائیں جو اسرائیل کے وجود کے مخالف ہیں۔ اسنوڈن نے کہا کہ داعش کے سرغنہ نے ایک سال موساد کے عناصر کی نگرانی میں تربیت حاصل کی ہے۔ اس نے فوجی اور تقریر کرنے کی ٹریننگ حاصل کی ہے۔

داعش نے شام، عراق اور لبنان میں بڑی تعداد میں لوگوں کا قتل عام، مقدس مقامات و ثقافتی مراکز کا انہدام اور لوگوں کو ہجرت پر مجبور کر کے یہ ثابت کر دیا ہے وہ صہیونی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

.......

/169