6 اگست 2014 - 12:54
دنیا میں خوشی لانے کے لئے صرف ایک بالٹی پانی کی ضرورت ہے

امریکی صدر باراک اوباما نے ہزاروں نہتے فلسطینیوں کی شہادت کے باوجود اسرائیلی بربریت کا کھل کر دفاع اور حماس پر الزمات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اسرائیل کے ساتھ حماس کے خلاف ’’آئرن ڈوم‘‘ پروگرام میں تعاون کریں گے انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک خود پر راکٹ حملے اور اپنی سرحد پر سرنگیں برداشت نہیں کرسکتا لہٰذا ایسے حالات میں اسرائیل کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔

ابنا: وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی۔ جس میں وزیراعظم نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کی۔ لیکن اس قسم کے بیانات کے باوجود اسرائیل کی جارحیت جاری ہے اور اب تک جنگ بندی کے باوجود 1900 کے قریب فلسطینی شھید اور دس ہزار سے زائد زخمی اور لاکھوں متاثر ہوئے۔
اسرائیل کے ظلم وستم پر اگرچہ بعض عرب ممالک میں اجتماعی جلوس نکلے اور مظاہرے بھی کیے گئے مگر افسوس کہ ان مظاہروں میں شریک افراد کی تعداد بہت کم تھی اس کے مقابلے میں اسلامی جمہوریہ ایران، پاکستان، ہندوستان، لبنان اور پاکستان اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں افرادنے شرکت کی اور اسرائیل اور امریکہ مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا‏ئے اوراحتجاج کا یہ سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے اور اسی دوران غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف واضح موقف نہ اپنانے پر پاکستانی نژاد برطانوی وزیر سعیدہ وارثی نے وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔ پاکستانی نژاد سعیدہ وارثی کا کہنا تھا کہ وہ غزہ کے معاملے پر اپنی حکومت کی پالیسی کی مزید حمایت نہیں کر سکتیں، اس لئے انہوں نے دکھ اور افسوس کے ساتھ اپنا استعفیٰ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھجوا دیا ہے۔ سعیدہ وارثی نے اپنے استعفے سے دراصل عرب حکمرانوں کو ایک ایسا طمانچہ رسید کیا ہے جسے وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے اس لئے کہ عرب حکمران اسرائیل کے غزہ میں خونی کھیل کھیلنے کے باوجود اب تک خواب غفلت سے بیدار نہیں ہوئے اور ان کے شہزاد ے تو فٹ بال ورلڈ کپ کے مزے لے رہے تھے۔ انہیں کیا لگے کہ کون مر رہا ہے؟ کس کے چھوٹے اور معصوم بچے بموں اور گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں؟ غزہ کے وہ بچے جنہوں نے ابھی زندگی کی چند روزہ بہاریں بھی نہیں دیکھی تھیں، انہیں بھی بھون دیا گیا۔ آج یقیناً ہر کوئی اس بات سے آگاہ ہے کہ غزہ ایک ایسا علاقہ ہے جس کے عقب میں بحیرہ روم اور سامنے مصر اور اسرائیل ہے مصر ایک اسلامی ملک ہے جس نے ان لوگوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے یہودیوں نے تو ناکہ بندی کرنی ہی ہے اپنے برادر اسلامی ملک مصرنے بھی ان بےچاروں کا راستہ بند کیا ہوا ہے ۔ کیسے مسلمان ہیں؟ کیسے دعوے ہیں؟ ان عرب ریاستوں کے کانوں کو معصوم فلسطینی بچوں کی آوازیں سنائی نہیں دے رہیں۔ عورتوں کی چیخ و پکار کیا ان کے کانوں تک نہیں پہنچتی؟ انہیں ان مظلوموں کا بہتا ہوا خون نظر نہیں آتا؟ اور ان کے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلتی، تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اسلامی ریاستیں اندھی بہری اور گونگی ہو چکی ہیں۔ دنیا کا ہر مذہب احترام انسانیت کا درس دیتا ہے اور یہودی جو ظلم و ستم کر رہے ہیں کیا یہ ان کے مذہب کی تعلیمات کی نفی نہیں ہے؟
بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی آبادی 18 لاکھ افراد پر مشتمل ہے اور ان 18 لاکھ افراد کو یہودی جب تک تشدد، گولہ باری، ٹینکوں کے نیچے روند کر مار نہیں دیتے یہ ان کا تماشا دیکھتے رہیں گے ۔ او آئی سی بالکل خاموش ہے۔ اب تک یعنی پچھلے چند روز میں اسرائیل نے 1880 سے زیادہ فلسطینی شہید کر دیئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا پوری ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہنا ہے کہ حماس کی طرف سے جو حملے ہوتے ہیں ان کا دفاع کرنا اسرائیل کا حق ہے تو جناب فلسطین کو اآزاد ریاست کا بنانا کس کا فرض ہے؟ اور کیوں نہیں فلسطینیوں کو ان کا یہ حق دیا جاتا تمام حقوق تو اسرائیل کیلئے ہیں اور مسلمانوں کیلئے صرف زیادتیاں اور جانوں کا نذرانہ دینا رہ گیا ہے۔ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت ظلم و ستم کر رہی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس پر امریکہ نے کبھی آواز بلند نہیں کی جبکہ عرب ممالک بھی تو امریکہ ’’بہادر‘‘ سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ افسوس صد افسوس کہ اب بھی عرب حکمرانوں کو ہوش نہیں آ رہا۔ اور فلسطین کے 18 لاکھ افراد آج غذا اور ادویات کی کمی کا شکار ہیں بچے، نوجوان اور خواتین زخمی اور بیمار پڑے ہیں عرب ممالک جو ہرسال امریکہ سے لاکھوں اور کروڑوں ڈالرز کا اسلحہ خریدتے ہیں وہ آخر کس لئے کیا آپس میں لڑنے کے لئے یا اسرائیل کو تباہ کرنے کے لئے۔
اگر اسرائیل کو تباہ کرنا ہے تو پھر دیر کس بات کی؟ کہیں امریکہ اور اسرائیل پورے مشرق وسطی کا جغرافیہ تبدیل کرنے کی ٹھوس منصوبہ بندی تو نہیں کر چکے۔ امت مسلمہ ہوش کے ناخن لے، 56اسلامی ممالک ہیں اور بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کے بقول اگرایک ایک بالٹی پانی بھی اسرائیل پر پھینک دیں تو وہ اس میں بہہ جائے گا۔

.......

/169