3 اگست 2014 - 13:43
غزہ پر صہیونی جارحیت، نیشنل کانفرنس کا بیان

اسرائیلی جارحیت پر عالمی طاقتوں اور سیکورٹی کونسل کی بے بسی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ صہیونی طاقتوں کیخلاف صف آراء ہوجائیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت پر عالمی طاقتوں اور سیکورٹی کونسل کی بے بسی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکمران جماعت نیشنل کانفرنس نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ صہیونی طاقتوں کیخلاف صف آراء ہوجائیں۔ بیان میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت پر عالمی طاقتوں اور سلامتی کونسلی کی بے بسی کو افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے سابق جنرل سیکریٹری شیخ نذیر احمد نے کہاکہ صہیونی طاقتوں نے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر رکھی ہے اور وقت کا تقاضا ہے کہ مسلمان دشمنوں کیخلاف متحدہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز بے گناہ، نہتے ، مظلوم اور محکوم فلسطینی شہریوں خصوصاً معصوم بچوں اور خواتین کی بہیمانہ اور وحشیانہ ہلاکتوں سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام باشعور اقوام کے دل چھلنی ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ اور برطانیہ جیسی عالمی طاقتیں فلسطین میں ہورہے قتل عام میں برابر شریک ہیں کیونکہ انہی کی پشت پناہی سے اسرائیل کے حوصلے دن بہ دن بلند ہوتے جارہے ہیں۔ شیخ نذیر نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی اسرائیل کے سامنے بے بسی کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے سلامتی کونسل کی جنگ بندی کی اپیلوں کو خاطر میں نہ لاکر اس عالمی ادارے کی اصلیت سامنے آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ صرف اور صرف غریب اور پسماندہ مملکتوں پر ہی اپنی زور آزمائی کرتا ہے جبکہ امریکہ،برطانیہ اور اسرائیل جیسے ممالک کے سامنے اس ادارے کی ایک بھی نہیں چلتی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں ہورہے مظالم کے خلاف اسلامی دنیا کی خاموشی شرمناک ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم ممالک مذمتی بیانات جاری کرکے ایسا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ انہوں نے اسرائیل کیخلاف کوئی بڑا تیر مار لیا۔ شیخ نذیر نے کہا کہ مسلم ممالک غزہ کے معاملے پر سلامتی کونسل پر دباؤ ڈالیں اور عملی طور پر کوئی لائحہ عمل مرتب کریں ، خالی مذمتی بیانات سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے ۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق اُن کا کہناتھا کہ امریکہ جو دنیا میں انتہا پسندی کا سب سے بڑا مخالف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اسرائیل کے معاملے میں بھیگی بلی بن جاتا ہے، حالانکہ دنیا میں سب سے پہلے انتہا پسندی کا آغاز ہی اسرائیل کی وجہ سے ہوا، فلسطینیوں کی تحریک آزادی نے دنیا کو جارحیت کے خلاف مزاحمت کا پیغام دیا، جس کے بعد جہادی گروپ سامنے آئے اور یہ سلسلہ پھیلتا چلا گیا،1947ء میں ایک بڑی زمینی ریاست کے طور پر دنیا میں موجود فلسطین آج اسرائیلی غاصبیت کی وجہ سے غزہ کی پٹی تک سکڑ گیا ہے، مگر اسرائیل کو یہ بھی منظور نہیں، وہ فلسطینیوں کا نام و نشان تک مشرق وسطیٰ سے مٹا دینا چاہتا ہے۔ شیخ نذیر نے کہا کہ ایک مہذب دنیا میں اس قسم کی لاقانونیت پورے منظر نامے کو شرمناک بنا دیتی ہے۔انہوں نے مزیدکہا کہ باضمیر کشمیری قوم اگرچہ کچھ نہیں کرسکتی لیکن یہاں کے عوام نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا برملا ثبوت فراہم کیا ہے اور تمام مسلم ممالک کو کشمیریوں کے جذبہ سے تحریک لینی چاہئے۔

.......

/169