اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق داعش کے دہشت گرد انبیائے کرام حضرت شيث اور جرجيس کے مزاروں اور کئی دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کر چکے ہیں۔ انہوں نے اسی طرح حضرت یونس علیہ السلام کے مزار اور امام ابوالعلا کے مزار سمیت کئی دیگر مذہبی مقامات کو بھی دھماکے سے اڑا دیا۔ تکفیری عقائد پر کاربند اس گروہ کے ایسے عقائد ہیں جسے اسلام کے مسلمہ مسالک میں سے کوئی بھی قبول نہیں کرتا ۔ ہمارے ساتی نے اس موضوع پر پاکستان کے اسکالر نقی ہاشمی سے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ داعش کے دہشت گرد انبیائے کرام کے مزاروں اور کئی دیگر مذہبی مقامات کو منہدم کر چکے ہیں اور اب اس دہشتگرد گروہ کا کہنا ہے کہ مکہ اور مدینہ بھی ہمارے نشانے پر ہیں۔
بلاشک دہشتگرد تکفیری گروہ داعش تمام علاقائی ملکوں کے لئے سنگین خطرہ ہے اور یہ تکفیری گروہ مستقبل میں امت اسلامیہ کو سنگین خطرات اور چیلنجوں سے دوچار کرسکتا ہے۔ بعض عرب اور اسلامی ممالک اپنے مفادات کی خاطر دہشتگرد گروہ داعش کو استعمال کر رہے ہیں اور مستقبل میں یہی دہشتگرد تکفیری گروہ ان ملکوں کے لئے وبال جاں ثابت ہوگا۔ اس لئے کہ دہشتگرد تکفیری گروہ داعش مسلمانوں کے درمیان اختلافات پھیلا کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ عالم اسلام دہشتگرد گروہ داعش کے ان سازشی منصوبوں سے آگاہ ہے۔
استکباری طاقتوں کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے داعش نے موجودہ قرآن کریم کو تحریف شدہ قرآن قرار دیا ہے۔ داعش کا یہ عقیدہ ہے کہ مذہب اور عیسائی برادری کو خوش کرنے کے لئے مذہبی رہنماؤں کی جانب سے قرآن مجید میں تحریف کی گئی ہے قرآن مجید کے جن سوروں اور آیتوں کو داعش کے دہشت گرد تبدیل کرنا چاہتے ہیں ان میں سورہ كافرون اور آیت تطہیر شامل ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گرد تنظیم داعش نے نینوا صوبے میں لائي جانے والی اشیاء پر ٹیکس بھی لگا دیا ہے جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں نے کچھ مذہب مخالف اشیاء کو آگ لگا دی ہے۔
عراق کی صورتحال 10جون 2014 سے تکفیری دہشتگروہ داعش کی جانب سے اس ملک کے شمالی اور مغربی علاقوں میں ہونے والے حملوں اور دہشتگردی کے واقعات کے بعد خراب ہوئی اورعراقی افواج نے داعش دہشتگردوں کا ملک سے صفایا کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر کاروائیاں شروع کیں۔
دہشتگرد گروہ داعش نے، جسے امریکہ، اسرائیل اور بعض علاقائی ملکوں کی حمایت حاصل ہے عراقی عوام کے خلاف وحشیانہ کارروائیاں کی ہیں جس نے ثابت کردیا کہ وہ عراق میں مذھبی منافرت پھیلا کر شیعہ اور سنی فسادات کرانے کے ٹاسک پر عمل پیرا ہے۔
بہرحال جس طرح ابھی اپنی گفتگو میں پاکستانی اسکالر سید نقی ہاشمی نے کہا کہ عالمی سامراج تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے ذریعے امریکہ اور یورپی ممالک میں اسلام کے فروغ کو روکنے کے لیے کوشاں ہیں لیکن اس میں انھیں کامیابی حاصل نہیں ہو گی اس لئے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کے عوام دین مبین اسلام میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے ان ممالک میں لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں جو ان ممالک کے حکمرانوں کے لئے تشویش کا سبب ہے اور اسی وجہ سے مغربی سامراج نے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش بنایا اور تاجیکستان، ازبکستان، پاکستان، افغانستان اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک کے دہشتگردوں کو اس میں شامل کیا تاکہ اس کے ذریعے مغربی سامراج بالخصوص صیہونی حکومت اپنے مذموم مقاصد حاصل کر سکیں۔
.......
/169