ابنا: عراق میں فوج نے دہشت گرد تنظیم داعش کی فوجی کمیٹی کے سربراہ اور اس کے کئی ساتھیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاري شمالی بغداد کے اعظمیہ علاقے میں ہوئی۔
مذکورہ دہشت گرد کمانڈر کی گرفتاري دہشت گردوں کے ایک کمانڈر کے اقبالیہ بیان کی مدد سے انجام پائی جو پہلے داعش میں شامل تھا لیکن بعد میں اس نے ہتھیار زمین پر رکھ کر خود کو فوج کے حوالے کر دیا تھا۔ اس بیان میں دہشت گرد تنظیم کے کئی اہم منصوبوں کے بارے میں بھی بتایا گیا تھا اور عراقی فوج نے بر وقت کاروائی کرتے ہوئے کئی دہشت گردانہ حملوں کو ناکام بنا دیا۔
سنیچر کی شام جس دہشت گرد کمانڈر کی گرفتاري ہوئی ہے وہ عراق میں صدام حکومت میں وزارت دفاع میں اعلی عہدیدار تھا۔
فلوجہ شہر میں بھی فوج کے حملے میں ایک دہشت گرد کمانڈر اور اس کے تین ساتھی مارے گئے ہیں۔
دوسری جانب دہشت گرد گروہ داعش نے عراق کے مشرقی صوبے دیالہ میں دوسرے مسلح گروہوں کو 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے کہ وہ یا تو ابو بکر البغدادی کی بیعت کریں یا اس صوبے سے نکل جائیں۔
رپورٹ کے مطابق عراق کے دیالہ صوبے کے ذرائع نے اپنا نام نہ بتائے جانے کی شرط پر بتایا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش نے دیالہ صوبے کے سعدیہ علاقے میں سنی مسلح گروہوں کو 24 گھنٹے کا وقت دیا ہے کہ وہ یا تو اس گروہ سے بیعت کریں یا پھر اس علاقے کو مکمل طور پر خالی کر دیں۔
یہ ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلامیک آرمی، انصارالسنه، اور جیش الاسلام جیسے مسلح گروہوں نے اب تک بیعت لینے کی داعش کی ہر قسم کی کوشش کو مسترد کر دیا ہے۔
اس ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ ان مسلح گروہوں کی جانب سے بیعت نہ کئے جانے کی صورت میں ممنکہ طور پر اگلے کچھ گھنٹوں میں دہشت گرد گروہ داعش اور مسلح سنی گروہوں کے درمیان شدید جنگ ہو سکتی ہے۔
در ایں اثنا دہشت گرد گروہ داعش نے عراق کے موصل شہر میں اپنی انتہا پسندانہ کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے ایک بیان جاری کر کے اس شہر کی خواتین سے کہا ہے کہ وہ اپنے چہروں کو مکمل طور پر ڈھکیں۔ اسی طرح اس دہشت گرد گروہ نے موصل شہر کی خواتین کو دھمکی دی ہے کہ مکمل چہرہ نہ ڈھکنے کی صورت میں انہیں سخت سزا دی جائے گی۔
.......
/169