ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہےکہ پانچ جمع ایک گروپ کے بعض رکن ممالک ایران پر اپنے نظریات اور مطالبات مسلط کرنے میں ناکام رہیں گے۔ انہوں نے سی این این ٹی وی چینل سے گفتگو میں پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایٹمی مذاکرات کے بارے میں کہا کہ یہ مذاکرات فریقین کے لئے ایک تاریخی موقع ہے اور اگر وہ عالمی تعلقات کے مستقبل پر نگاہ رکھیں تو ایران کے ایٹمی معاملے کوحل کرنا ممکن ہوجائے گا۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران ایٹمی مذاکرات میں مسلط کیا جانے والا حل قبول نہیں کرے گا کیونکہ جنہوں نے ایران پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی کوشش کی وہ ناکام رہے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایٹمی مذاکرات میں جس چیز کی ضرورت ہے وہ ہم آہنگي ہے تا کہ ایسا معاہدہ حاصل ہو جائے جو پائدار ہو اور اس سے سب کے اھداف حاصل ہوں۔ محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے درمیاں گہرے اختلافات موجود ہیں اور پانچ جمع ایک گروہ نے ابھی تک اطمینان بخش پکیج نہیں دیا ہے لہذا ہمارے مد مقابل کو ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے ایران کے مطالبات پورے ہوتے ہوں۔ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ھدف یہ ہے کہ سب کو یہ اطمینان حاصل ہوجائے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام ہمیشہ پرامن رہے گا اور یہ سائنسی اور علمی لحاظ سے عین ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورینیم افزودہ کرنے سے ایران کے ھدف کو نہایت واضح الفاظ میں بیان کردیا گيا ہے اور کسی پریشانی کی کوئي وجہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک ایسا عالمی میکانیزم قائم کرے گا تا کہ سب کو یہ اطمینان حاصل ہوجائےکہ ایران نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران پر پابندیاں لگاکر امریکہ کو کچھ نہیں ملا یہانتک کہ ایران جو صرف دوسو سنٹری فیوج مشینوں کا حامل تھا اب تک بیس ہزار سنٹری فیوج مشینیں نصب کرچکاہے اور یہ سب پابندیوں کا نتیجہ ہے۔
.......
/169