26 جولائی 2014 - 17:13
داعش کے اقدامات پر سنی مفتی کا بیان

مصر کے سلفي مفتي محمد الاباصيري نے انبيائے کرام کے مزارات مساجد اور کليساؤں کو مسمار کرنے پر مبني داعش کے مجرمانہ اور انسانيت سوز اقدامات کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فاسق وفاجر اور خون آشام گروہ کے اقدامات سے اس بات کي نشاندہي ہوتي ہے کہ ان لوگوں نے ہر دين و مذہب سے کتني دوري اختيارکرلي ہے ۔

ابنا: مصر کے سلفي مفتي محمد الاباصيري نے انبيائے کرام کے مزارات مساجد اور کليساؤں کو مسمار کرنے پر مبني داعش کے مجرمانہ اور انسانيت سوز اقدامات کي مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس فاسق وفاجر اور خون آشام گروہ کے اقدامات سے اس بات کي نشاندہي ہوتي ہے کہ ان لوگوں نے ہر دين و مذہب سے کتني دوري اختيارکرلي ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کوئي بھي شخص جو دين اسلام کي ذرا سي بھي معلومات رکھتا ہوگا اس کويہ سمجھ ميں آجائے گا کہ اس گروہ نے کيسے مجرمانہ اقدامات انجام ديئےہيں ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھي شخص اس قسم کے اقدامات انجام دينے کا حکم ديتا ہے وہ بہت بڑا مجرم ہے ۔ مصر کے سلفي مفتي نے کہا کہ داعش گروہ عصر حاضر کے تاتاري عناصر ہيں جنھوں نے ماضي ميں بلاد اسلاميہ پر حملہ کرکے انہيں تاخت و تاراج کرديا تھا اسلامي تمدن کو تہس نہس اور دجلہ و فرات کے پاني کو مسلمانوں کے خون سے رنگين کرديا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ داعش گروہ آج يہي کام کررہا ہے اور انہوں نے تاتاريوں اور چنگيزيوں کو اپنا آئيڈيل بناليا ہے ۔
مصرکے سلفي مفتي نے کہا کہ اس ميں کوئي شک نہيں کہ يہ غدار گروہ دشمنوں کے ہاتھوں کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور اس کا مقصد اسلامي تہذيب و تمدن کو نابود کرنا ہے ليکن تاريخي حقائق اس بات کے گواہ ہيں کہ ان کے ناپاک عزائم پورے نہيں ہوسکيں گے۔ اس درميان عراق ميں دہشت گردگروہوں کي آپسي لڑائي ميں دسيوں افراد ہلاک ہوگئے ہيں ۔
دجلہ فوجي کمان نے خبردي ہے کہ صوبہ ديالہ کے قبائلي باشندوں نے داعش کے چودہ عناصر کي لاشيں پڑي پائي ہيں ۔ عراقي فوج کي دجلہ کمان نے اپنے بيان ميں کہا ہے کہ داعش کے ان چودہ عناصر کي لاشيں صوبہ ديالہ کے السعديہ علاقے ميں پائي گئي ہيں اور علاقے کے قبائل کا کہنا ہے کہ يہ عناصر ديگر دہشت گرد گروہ کے افراد کے ہاتھوں مارے گئے ہيں ۔
خبروں ميں بتايا گيا ہے شام کي طرح عراق ميں بھي سرگرم دہشت گرد گروہوں کے درميان اختلافات بڑھتے جارہے ہيں جس کي وجہ سے اب ان دہشت گرد گروہوں کے درميان مسلح لڑائياں بھي شروع ہوگئي ہيں جس کے نتيجے ميں اب تک دسيوں دہشت گرد اپنے ہي ساتھيوں کے ہاتھوں مارے جاچکے ہيں ۔ عراق ميں دہشت گردگروہ داعش اس وقت نينوا، صلاح الدين، الانبار اور ديالہ صوبوں ميں سرگرم ہے.
.....

/169