23 جولائی 2014 - 14:57
عراق میں ایسا کانفرنس جو امریکہ کو نقاب اتارنے پر مجبور کرے گی

ماسکو چاہتا ہے کہ عراق کے بارے میں بین الاقوامی کانفرنس کرائے جانے کے اپنے ارادے کو آگے بڑھائے۔

ابنا: روس۔۔۔۔ نائب وزیر خارجہ گینادی گاتیلوو نے اعلان کیا ہے۔ "کانفرنس کے بارے میں تصور ابھی بحث کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ البتہ یہ بات اہم ہے کہ ابھی سے یہ ادراک فروغ پا رہا ہے کہ دہشت گردی کو بڑھنے سے روکنے کی خاطر کچھ کیا جانا اور عراق کی قانونی حکومت کی مدد کیا جانا ضروری ہے۔

خود عراق میں کانفرنس کرائے جانے کو مثبت خیال کیا جاتا ہے۔ عراق کے مرکز برائے تزویری تحقیقات کے صدر واتق الہاشمی کہتے ہیں:
" اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک مستقل رکن کی حیثیت سے روس کی اس پہل کاری کا بلاشبہ حالات کی روش پر مثبت اثر ہوگا۔ لگتا ہے ماسکو نگاہ رکھے ہوئے ہے کہ خطے میں دہشت گردی کس سرعت سے فروغ پا رہی ہے تبھی وہ اس پہل کاری پر کاربند ہوا ہے۔ روس کو مناسب اہمیت دی جانی چاہیے کیونکہ روس عراق کے معاملات پر توجہ دے رہا ہے نہ کہ بہت سے دوسرے ملکوں کی مانند ان سے لاپرواہ ہے"۔
ماسکو کی رائے کے مطابق اس کانفرنس میں عالمی امور پر اثر انداز ہونے والے سبھی ملکوں اور عراق کی تمام ہمسایہ ریاستوں کو شریک ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا یہ ہے کہ شاید ہی تمام ملک روس کی اس تجویز کے سلسلے میں سرگرمی کا اظہار کریں۔
روسی مستشرق ویاچی سلاو ماتوزوو کہتے ہیں:"میری نگاہ میں تمام عرب ممالک عراق بارے کانفرنس کرائے جانے کی حمایت کریں گے اور اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔ بات علاقے کی کچھ اور طاقتوں کی رہ جاتی ہے جیسے ترکی۔ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کسی حد تک اسے بھی گذند پہنچا ہے جب داعش کے جنگجووں نے موصل پر قبضہ کیا تھا تو اس ملک کے سفارت کاروں کو اغوا کیا گیا تھا اور لوٹ لیا گیا تھا تاہم مجھے شک ہے کہ انقرہ خود کو تعمیری کلید کے طور پر منوائے گا۔ بہر طور ترکی نیٹو میں شامل ملک ہے اور وہ امریکی پالیسی سے شاید ہی صرف نظر کر سکے۔ یوں بڑا معاملہ یہ ہے کہ روس کے تصور کو امریکہ کیونکر لیتا ہے۔ مجھے بہت زیادہ شبہ ہے کہ واشنگٹن دل سے ماسکو کی تجویز کردہ کانفرنس میں دلچسپی لے گا۔ گذشتہ پانچ برسوں مین اس کی مشرق وسطٰی میں پالیسی اس امر کی غمّاز ہے کہ امریکہ کا انتہائی بنیاد پرست دہشت گرد ڈھانچوں پہ تکیہ ہے جو پہلے سے موجود نظم و ضبط کو پامال کر دیتے ہیں جس سے امریکہ کو موقع ملتا ہے کہ وہ خطے کو پھر سے ترتیب دیے جانے کے اپنے منصوبے پر عمل درآمد کر سکے"۔
اس سے پہلے یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکہ براہ راست یا کسی تیسرے ملک کے توسط سے عراق کے حالات سے فائدہ لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ گاتیلوو نے کسی کا نام لیے بغیر توجہ دلائی ہے کہ " کچھ ایسے ہیں جو درحقیقت دہشت گردوں کو مالی و سیاسی اعانت فراہم کر رہے ہیں تاکہ اپنے جغرافیائی سیاسی مقاصد حاصل کر سکیں"۔
کیا ایسے میں عراق سے متعلق کانفرنس کا بنیادی مقصد تمام نہیں ہو جاتا جو یہ ہے کہ خطے میں دہشت گردی سے مبارزہ آرائی کی مشترکہ راہ وضع کی جائے؟
ویاچی سلاو مازوتوو ایسا خیال نہیں کرتے:"روس کانفرنس کرائے جانے پر درست زور دے رہا ہے۔ خود دہشت گردی کے خلاف لڑائی کا تصور امریکہ کو مجبور کر سکتا ہے۔ کانفرنس کو مناسب ترین طریقے سے کرایا جانا ہوگا کیونکہ خطے کے ملک ہی مشرق وسطٰی میں حالات کی روش کا تعین کر سکتے ہیں جس سے امریکہ بے رخی نہیں برت سکے گا"۔
جیسا کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق سے متعلق کانفرنس بہت سوں کو نقاب اتارنے پر مجبور کر دے گی۔ لفظوں میں تو سارے ہی ملک دہشت گردی کے خلاف لڑنے کو تیار ہیں۔ لیکن کیا وہ اسے عمل میں ثابت کرنے کو بھی تیار ہیں؟
.......

/169