ابنا: پوری دنیا میں انتہا پسند وہابی دہشتگردوں کو سعودی عرب کی مالی حمایت حاصل ہے۔ سعودی عرب عراق میں دہشتگردی کی حمایت کرکے بغداد کی عوامی حکومت کے لئے سب سےبڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔ اور سعودی عرب اپنے درباری ملاؤں کو قتل کے فتوے جاری کرنے پر مجبور کرکے دیگر قوموں کے خلاف دہشتگردی پھیلا رہا ہے۔
مشرق سے لے کر مغرب تک دہشتگردی کے تمام واقعات میں سعودی عنصر صاف دیکھا جا سکتا ہے ۔ سعودی عرب اور دہشتگردی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ آل سعود دراصل عالم اسلام میں نفاق اور افتراق کا ہدف لیکر ہی اقتدار میں آئے تھے اور آج تک اسی منحوس پالیسی پر کاربند ہیں۔ القاعدہ، طالبان، النصرہ اور داعش کی بھرپور حمایت اور مدد کے باوجود سعودی عرب کے امریکہ اور مغرب کے ساتھ تعلقات اعلٰی سطح پر قائم ہیں، جبکہ اسی حمایت کی عالم اسلام کو آج تک سزا دی جا رہی ہے۔
بلاشک امت مسلمہ بالعموم اور ملت عراق بالخصوص اس وقت ایک ایسی جنگ کے دہانے پر ہے، جس سے بچنے کی بہت کوشش کی گئی، تاہم زمینی حقائق اس امر کے آئینہ دار ہیں کہ یہ جنگ امت کے دو دھڑوں کے مابین ہے جوایک دوسرے سے بر سر پیکار ہونے والے ہیں۔ ان میں ایک گروہ جارح ہے اور دوسرا دفاع کرنے والا۔ اسلامی تعلیمات کی ایک خاص تشریح کرنے والا یہ گروہ دیگر مسلمانوں کے مدمقابل آ کھڑا ہوا ہے۔ یہ گروہ اپنے عقیدے کے خلاف عمل کرنے والے ہر فرد کو مرتد، مشرک، کافر اور قابل گردن زدنی سمجھتا ہے۔ اس گروہ کی نظر میں جہاں فرزندان رسول (ص) کے مزارات نعوذ باللہ شرک کے ٹھکانے ہیں، وہیں ان کی نظر میں دیگر اولیائے خدا کے مزارات بھی قابل انہدام ہیں۔ اس گروہ کی دشمنی فقط مزارات اور عبادت خانوں سے نہیں بلکہ یہ اسلام کے دیگر مسالک کو قبول ہی نہیں کرتا اور ان مسالک کے پیروکاروں کی جان، مال اور حرمت کو اپنے لیے مباح تصور کرتا ہے۔ اس گروہ سے نمٹنے کی ایک ہی صورت ہے کہ مدافعین باہم جمع ہوں اور اس گروہ کے خلاف سرحدوں سے ماوراء ایک اتحاد تشکیل دیں، تاکہ ہر محاذ پر ان کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جاسکے۔اس لئے کہ اسی قسم کے عقائد کا مالک سعودی عرب ہے اور اسی سعودی عرب نے ہی اس قسم کے تکفیری گروہوں کو پالا پوسا اورمسلمانوں کا دشمن بنایا جو اس وقت خود سعودی عرب کیلئے بھی وبال جان بن چکا ہے اور تشویش کے باوجود ، سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا یہ تشویش واقعی دہشتگردی کے خطرے کےباعث ہے یا یہ کہ سعودی عرب جیسے ممالک خود کو دہشتگردی کےخلاف جنگ کرنے والے ممالک میں شامل کرناچاہتے ہیں؟
علاقے میں دہشتگردی بڑھنے پرخلیج فارس کے ممالک کی تشویش کی اسی وقت پیشگوئی کی جاسکتی تھی جب عربی مغربی محاذ نے دہشتگردی کے سہارے شام میں استقامت کامحورحذف کرنے کے پروجیکٹ پر عمل درآمد شروع کیا تھا۔
جن ممالک نے مارچ دوہزارگیارہ میں شام میں دہشتگردی کا بیج بویاتھا اس وقت اس کے نتائج پر تشویش میں مبتلا ہیں۔
وہ دہشتگرد جنھوں نےشام میں مختلف عناوین سے کاروائیاں شروع کی تھیں آج عراق میں ہنگامہ مچائے ہوئے ہيں اور ان کی سرگرمیاں سعودی عرب کی سرحدوں تک پہنچ گئی ہيں۔
یورپ سمیت مختلف ممالک کے زرخرید دہشتگرد جو ابتدا میں صرف شام میں دہشتگردانہ کاروائياں انجام دے رہے تھے آج اپنےآقاؤں کے فرمان کوکوئی اہمیت دیئے بغیر ہرطرح کے جرائم انجام دے رہے ہیں۔
اگرچہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے امریکہ ، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی مدد سے موصل اور شمالی عراق پر بعثی ایجنٹوں کے تعاون سے قبضہ کرلیا ہے لیکن ان کا نام نہاد اسلامی حکومت تشکیل دینے کا وہم، عالم اسلام کےلئے ایک سنجیدہ خطرہ ہے۔
دہشتگردی کے سلسلے میں علاقے بالخصوص بعض عرب ممالک کی دہری پالیسی، عالم اسلام کو درپیش خطرات کو دور نہيں کرسکتی۔
یہ نہيں ہوسکتا کہ سعودی عرب جیسے ممالک کی جانب سے دہشتگردی کو ہتھکنڈے کے طور پر استعمال بھی کیاجائے اور اس کے خطرے پر تشویش بھی ظاہر کی جائے اور اس طرح اسے سعودی قوم اور دوسری مسلمان قوموں کا ہمدرد ثابت نہيں کیا جاسکتا۔
یہ سب پر عیاں ہے کہ شام و عراق میں دہشتگردی کی حمایت میں سعودی عرب کی پالیسیوں نے عالم اسلام کو تکفیریوں اور داعش کے خطرے سے روبرو کردیا ہے۔
.......
/169