20 جولائی 2014 - 14:19
اقوام متحدہ: عراق میں ہر ماہ ۱۰۰۰ عام شہری قتل کئے جا رہے ہیں/ عراق بڑے انسانی المیے کی طرف گامزن

اس رپورٹ میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ عراق میں داعش کی کاروائیوں کے آغاز سے تاہم ۱۲ لاکھ عراقی شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اقوام متحدہ میں عراقی انسانی حقوق کونسل کے کمیشن نے گزشتہ روز ایک رپورٹ شائع کر کے عراق میں گزشتہ چھے مہینوں کے دوران چھے ہزار عام شہریوں کے مارے جانے کی خبر دی ہے۔
اس رپورٹ میں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ عراق میں داعش کی کاروائیوں کے آغاز سے تاہم ۱۲ لاکھ عراقی شہری اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
نیکولائے ملاڈنوف نے یہ رپورٹ پیش کر کے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر ممکنہ طریقے سے عراق میں جنگ بندی کی کوشش کی جائے اس لیے کہ عراق کا بحران ایک بڑے انسانی المیے کی طرف جا رہا ہے۔
پہلے صدام ملعون نے عراق میں شیعوں کا قتل عام کیا پھر اس ملک پر امریکہ کے حملے میں ہزاروں عراقی جانبحق ہوئے جبکہ اس کے بعد دھشتگردی گردی اور روزانہ بم دھماکوں کا سلسلہ جاری رہا اور حالیہ دنوں تکفیری گروہ داعش کے ہاتھوں اس ملک کے مظلوم عوام کا کس بے دردی سے قتل عام ہو رہا ہے! عالمی اداروں اور انسانی حقوق کے دعویدار تنظیموں کو اس سلسلے میں ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲