اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کل سہ پہر کو غزہ میں اسرائيلی فوج کے حملوں اور فلسطینی عوام کے قتل عام میں شدت آنے کےبعد روسی صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ٹیلیفونی بات چیت میں کہا کہ غزہ کا محاصرہ جاری رہنا اور بے گناہ بچوں اور عورتوں کا قتل عام ، انسانیت سوز کاروائی ہے جس کا نئی صدی کی تاریخ میں کوئی ریکارڈ نہیں ملتا ۔ صدر مملکت حسن روحانی نے غزہ کے عوام کا قتل عام رکوانے کے لئے عالمی اداروں خاص طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اقدام کئے جانے کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے، غزہ پر حملوں کی مذمت کئے جانے ، صہیونی حکومت کے حملے فوری بند کئے جانے ، غزہ کا محاصرہ ختم کئے جانے اور اس خطے کے عوام خاص طور پر زخمیوں کو فوری امداد پہنچائے جانے کا مطالبہ کیا ۔ ڈاکٹر حسن روحانی نے عراق اور شام کی کے حالات اور عراق میں اتحاد کے تحفظ کی ضرورت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں تشدد اور انتہا پسندی نیز دہشت گردی سے ٹھوس مقابلےکے لئے علاقائی تعاون ، اور اس ملک میں حالیہ انتخابات کے بعد قانونی اداروں کی تشکیل کے لئے امن و استحکام کا قیام ضروری ہے ۔ اس ٹیلفونک گفتگو میں روسی صدر نے بھی غزہ کی صورتحال کو تشویشناک اور نا قابل تحمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ بااثر ممالک کو چاہئے کہ غزہ ميں فوری جنگ بندی اور اس علاقے کے بے گناہ اور مظلوم عوام کی مدد وحمایت کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں۔ روسی صدر نے اسی طرح عراق کی صورتحال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اس ملک میں قانونی حکومت کی حمایت کی ضرورت پر تاکید کی اور کہا کہ دہشت گردی سے مقابلہ ایک ناقابل انکار ضرورت ہے اور تمام ملکو کو اس مشکل سے نمٹنے کے لئے تعاون کرنا چاہئے ۔ صدر مملکت کی ویب سائٹ کی رپورٹ کےمطابق پوتین نے ایران اور روس کے دوطرفہ تعلقات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو مثبت قرار دیا اور علاقے میں امن و امان کی برقراری کے لئے دونوں ملکوں کے اقدامات جاری رہنے پر تاکید کی ۔ پوتین نے ویانا کے حالیہ مذاکرات میں پیشرفت کو امید افزا بتایا اور کہا کہ روس ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جامع ایٹمی سمجھوتے کے حصول کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لارہا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲