16 جولائی 2014 - 14:28
خود ساختہ مرجع محمود الصرخی کے بارے میں مزید انکشافات

عراق کا خود ساختہ مرجع محمود صرخی نے ،کئی سال تک مخفی رہنے کے بعد،کچھ روز قبل اپنے کچھ چاہنے والوں کے ساتھ کربلا کے کچھ حصے کے امن وامان کو برباد کرنے کی کوشش کی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ محمود بن عبد الرضا بن محمد الحسنی الصرخی کہ جس نے خود کو عراق میں دینی مرجع کا نام دیا اور اپنے آپ کو حسنی نسب سے تعلق رکھنے والا بتاتا، سن ۱۹۶۴ میں کاظمین میں پیدا ہوا، ۱۹۸۷ میں اس نے بغداد  انجینرنگ  کالج  سے فارغ التحصیل ہونے کی سند لی اور اس کے بعد سن ۱۹۹۴ میں حوزہء علمیہ میں قدم رکھا ۔
شیخ محمود بن عبد الرضا بن محمد الصرخی ،سال ۲۰۰۳ میں عراق کے معدوم ڈیکٹیٹر صدام کی حکومت کی سرنگونی سے پہلے اچانک ظاہر ہوا اور خود کو آیۃ اللہ العظمی کی سطح کا دینی مرجع کہلانا شروع کیا۔
الصرخی کہ جو صدام کو پھانسی پر لٹکائے جانے اور حزب بعث کی شکست کے ساتھ ہی مخفی ہو گیا تھا، اب ایک بار پھر داعش اور بعث پارٹی کے ظہور کے دوران  ان کے  دہشت گردانہ تحرکات  کے ساتھ ہی عراق کے شیعوں کے درمیان فتنہ ایجاد کرنے کی خاطر ظاہر ہوا۔
سن ۲۰۰۵ میں محمود الصرخی اچانک عراق  کے  ایک  شہر  حلہ میں سامنے آیا اور انتہائی مختصر مدت میں اس نے عراق کے شیعہ آبادی والے شہروں میں بہت سارے دفتر کھول دیے اور اپنی مرجعیت کا اعلان کرنے کے بعد غاصب امریکی فوج کے خلاف اپنا موقف ظاہر کیا ۔
اس کی فوجووں نے چند دن کے بعد کربلائے معلی میں کچھ امریکی فوجیوں پر حملہ کیا اور تین فوجیوں کو قتل کر دیاجبکہ امریکی فوجیوں نے اسے گرفتار نہیں کیا اس کے بعد اس نے امام زمانہ کے ساتھ ملاقات کا دعوی کیا کہ جس پر عراق کے مراجع اور شیعوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ،اس کے ماضی کو کھنگالنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ بھی بعث پارٹی کا رکن ہے کہ جس نے اب سعودی عرب کی جاسوسی ایجینسی کے ساتھ مل کر، شیعہ مرجعیت کو خراب کرنے کے لیے اس میدان میں قدم رکھا۔

ایک عراقی مصنف علی الشمری نے الصرخی کے بارے میں کہا ہے کہ ۹۰ کی دہائی میں اپنے گھر میں ڈش سیٹ کرنے کے دوران اس کو گرفتار کر لیا گیا اور اس پر ۳ لاکھ دینار جرمانہ کیا گیا ۔
ایک زمانے میں کہ جب وہ قید خانے میں تھا اس نے فلسفی مسائل کے بارے میں لکھنا شروع کیا ،اس وقت کے سیکیوریٹی افراد کے ایک افسر نے الصرخی اور اس کے افکار و آثار کے ساتھ آشنائی پیدا کرنے کے بعد، اس کو صدام کے دور میں عراق کی جاسوسی ایجینسی کے حوالے کیا، اس ایجینسی نے اس کا استقبال کیا اور اس کو اپنے کارکنوں میں شامل کر لیا ۔

کہا جاتا ہے کہ الصرخی کا نام شروع میں عبد الرضا البھادلی تھا اس کے بعد شیخ محمود التمیمی میں تبدیل ہوا ۔جس زمانے میں اس کا نام شیخ محمود التمیمی تھا اس کا عمامہ سفید تھا اور عراق کی پولیس کے طور پر اس کو پہچانا جاتا تھا ۔
کچھ مدت کے بعد اس نے اپنا نام سید محمود الصرخی میں بدل دیا اور کالے عمامے کے ساتھ لوگوں کی نظروں میں ظاہر ہوا ۔
اس کے علاوہ رواں سال کے اوایل میں اس کے طرفداروں نے ایک مدرسے میں اس کی بیٹی کی توہین کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے ادارہ تعلیمی نظام کی عمارت پر حملہ کر دیا اور اس میں کافی توڑ پھوڑ کی ۔

محمود الصرخی کے دسیوں حامیوں نے دعوی کیا کہ کربلا کے ایک مڈل اسکول میں صرخی کی لڑکی کی توہین کی گئی ہے اور اسی چیز کے خلاف اعتراض کے طور پر انہوں نے تعلیمی نظام کے دفتر پر حملہ کیا ہے اور اس پر قبضہ کرنے اور اس میں توڑ پھوڑ کرنے کا قصد رکھتے ہیں۔

صرخی کوئی بھاری بھرکم علمی شخصیت نہ ہونے کے باوجود خود کو آیۃ اللہ شھید محمد باقر الصدر اور آیۃ اللہ سیستانی کا شاگرد بتا رہا تھا اور اس نے سال ۲۰۰۳ عیسوی سے ۴۰ سال کی عمر میں مرجعیت کا دعوی کر کے اپنی کاروائی کا آغاز کیا ۔

اس کے بعد اس کے حسنی ہونے اور امام زمانہ سے رابطہ رکھنے جیسے مسائل منظر عام پر آئے ۔اس کے کھل کر سامنے آنے کے بعد جنوبی عراق کے کچھ شیعہ طرفدار اس کے گرد جمع ہو گئے ،اور ایک نیا انحراف وجود میں آ گیا جو مراجع تقلید کی ناراضگی اور ان کے اعتراض کا باعث بنا ،اس کے اس دعوے کے ساتھ کہ وہ آیۃ اللہ شھید محمد باقر الصدر کے راستے پر گامزن ہے آیۃ اللہ حائری نے اس کے بارے میں ایک استفتاء کے جواب میں اعلان کیا کہ :محمود حسنی صرخی مجتھد نہیں ہے اور ہم اس پر اعتماد نہیں کرتے ۔

متعدد فتنوں کے بعد محمود الصرخی اور اس کے طرفداروں ،قبیلہء آل الصرخہ کے رئیس شیخ علی الصبکان ،اور اس قبیلے کے تین طائفوں یعنی آل برجس، الصوایح،اور آل بیات  نے ایک بیان میں اپنا موقف سب کے سامنے رکھ دیا ۔مذکورہ افراد نے اس بیان میں الصرخی سے برائت کا اظہار کیا اور اعلان کیا کہ قبیلے کے تمام افراد کی نیابت میں وہ مذہب اہل بیت کے نمایندے آیۃ اللہ سید علی سیستانی کی بیعت کرتے ہیں ۔

اس بیان میں آگے آیا ہے :ہم عظیم مرجعیت کی خدمت کے لیے قانونی تلواریں ہیں اور ان تمام لوگوں کی نابودی کے لیے کہ جو مرجعیت کے نام پر گوناگوں ناجائز فائدے اٹھاتے ہیں ،آیۃ اللہ سیستانی کی پیشوائی میں نجف کی مرجعیت کے تابع فرمان ہیں،اور ہم درج ذیل باتوں کا اعلان کرنا چاہتے ہیں :

۱۔آل صرخہ کا قبیلہ ،قبیلہء بنی لام کی ایک شاخ ہے اور ہمارے پاس بنی لام کے بزرگ ،غضبان البنیہ کی تحریر موجود ہے ۔

۲۔ہمارا تعلق عام لوگوں سے ہے اور ہم سادات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذریت نہیں ہیں ۔

۳۔ہم تاکید کرتے ہیں کہ ہم نے سال ۱۹۹۹ میں محمود الصرخی کو فسق و فجور اور السودہ کا مرتکب ہونے کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے قبیلے سے نکال دیا ہے ۔

۴۔محمود الصرخی ایک بعثی ہے اور سبعاوی ابراہیم الحسن تکریتی،نام کے مجرم کے دور میں ان کے لیے پارٹی کی رپورٹیں لکھتا تھا اور وہ اس پر فخر کرتا تھا یہاں تک کہ اس نے سبعاوی کے ساتھ ایک یادگار تصویر اپنے گھر میں رکھی تھی ۔

۵۔ سبعاوی نے جنوب عراق کے کچھ جاسوسی کرنے والے افراد منجملہ الصرخی کو طلاب کے قالب میں جاسوسی کے لیے حوزہء علمیہ میں بھیجا اور حوزہء علمیہ میں جاسوسی کی ہر حکمت عملی کے ناکام ہو جانے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ۔

۶۔چونکہ سبعاوی کے ماموران امنیتی قابل اعتماد نہیں تھےلہذا حوزہء علمیہ میں ان کو قبول نہیں کیا گیا ،لیکن ان افراد نے حوزہء علمیہ کے باہر اور اس کی سرپرستی سے ہٹ کر اپنے لیے ناقص قسم کے دروس کا انتخاب کیا ۔زیادہ عرصہ نہیں گذرا تھا کہ سبعاوی نے ہمارے قبیلے کے فاسق محمود اور دوسرے ماموران امنیتی کے بارے میں اعلان کر دیا کہ وہ اعلم  ہیں۔

۷۔قبائل کی لغت میں السودہ کی اصطلاح کا اطلاق ایسے شخص پر ہوتا ہے کہ جس نے کسی محرم یا شادی شدہ سے زنا کیا ہو ،محمود الصرخی ایک شادہ شدہ عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہوا تھا ،اور وہ اب بھی اس کے ساتھ رہ رہی ہے اور کئی بچوں کی ماں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲