16 جولائی 2014 - 14:12
مزاحمت کے میزائیل سے بوکھلایا اسرائیل

صہیونی ریاست کے صدر نے فلسطینیوں کی سخت مزاحمت کے سامنے اپنی ناتوانی کا اعتراف کیا ہے۔

ابنا:  شیمون پیرز نے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے فائر کئے گئے راكٹوں کے مقابلے میں صیہونی حکومت کی ناتوانی کا اعتراف کرتے ہوئے مسائل کے حل کے لئے جنگ بندی کو بہترین آپشن قرار دیا ہے۔

شیمون پیرز نے امریکا، یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ کے سفیر ٹونی بلیئر کے ساتھ ملاقات میں دو ممالک کی تشکیل کے اقدامات کی حمایت کی۔ انہوں نے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کو اسرائیل کا اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے امن کا حصول ممکن ہے۔ اس ملاقات میں ٹونی بلیئر نے جنگ بندی سے متعلق مصر کی تجویز کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز، اسرائیل اور غزہ میں بچوں کے لئے بہت اچھا موقع فراہم کرے گی۔
صیہونی صدر شیمون پیرز نے ایسے وقت میں جنگ بندی کی بات کہی ہے کہ جب صیہونی فوج، فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے فائر کئے جانے والے راکٹوں اور میزائیلوں کو روکنے میں ناکام رہی۔ شیمون پیرز کا کہنا تھا کہ جنگ سے امن کا حصول ناممکن ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں رہنے والے فلسطینی، اسرائیل کے دشمن نہیں ہیں بلکہ اہم مسئلہ دہشت گردی ہے جس کی جائے پیدائش غزہ ہے۔

در ایں اثنا صہیونی ریاست کے نائب وزیر جنگ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو کو استعفی دے دینا چاہئے۔ غزہ پر صیہونیوں کے خطرناک اور وحشیانہ حملوں اور فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے ان حملوں کا منہ توڑ جواب دیے جانے کی وجہ سے اسرائیل کے نائب وزیر جنگ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس جنگ میں ہم شکست سے دوچار ہوئے۔

فلسطین کی الآن ویب سائٹ کے مطابق دینی دانون نے منگل کو اپنے ایک خطاب میں کہا ہے کہ ہم اس جنگ میں شکست کھا گئے لہذا اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کو استعفی دے دینا چاہئے۔ اس سے پہلے صیہونی حکومت کی پارلیمنٹ كنیسٹ میں عرب گروہوں اور کچھ دیگر جماعتوں نے نیتن یاہو کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی بات کہی تھی۔
دوسری جانب اطلاع ہے کہ نیتن یاہو نے تنقید کی وجہ سے اسرائیل کے ڈیفنس سیکریٹری کو معزول کر دیا۔

غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف حملے میں کچھ فیصلوں کی مخالفت کرنے کی وجہ سے صیہونی حکومت کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ڈیفنس سیکریٹری دینی دانون کو معزول کر دیا۔ در ایں اثنا نتن ياہونے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے جنگ بند سے متعلق مصرکی تجویز کو قبول نہیں کیا تو پھر غزہ پر حملے مزید تیز کر دئے جائیں گے۔

.......

/169