ابنا: رپورٹ کے مطابق افغانستان کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ ہلمند صوبے کے سنگین علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک ساٹھ طالبان جنگجو مارے گئے ہیں۔
اس اطلاع کی بنیاد پر ان جھڑپوں میں فوج نے طالبان کے ٹھکانوں سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولے بارود بھی برآمد کئے ہے۔ ہلمند صوبے کے سنگین علاقے میں تین دن پہلے طالبان کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوا تھا جو اب تک جاری ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تقریبا آٹھ سو طالبان جنگجوؤں نے ہلمند صوبے پر حملہ کیا تھا جس کے بعد فوج کی جوابی کارروائی کے بعد یہ جنگجو انہیں علاقوں میں چھپ گئے ہیں۔
ادھر دسیوں طالبان جنگجوؤں نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
بغلان صوبے کے ایک کمانڈر اور90 طالبان جنگجوؤں نے اپنے ہتھیار زمین پر رکھ کر خود کو فوج کے حوالے کر دیا ہے۔
بغلان صوبے کی اعلی امن کونسل کے سربراہ عبد الصمد استانكزي نے پیر کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے سینئر کمانڈر قاری عبدالحفیظ نے اپنے 90 ساتھیوں کے ساتھ فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کمانڈر بغلان صوبے میں فوج کے خلاف بر سر پیکار تھا اور ہتھیار ڈالنے کے بعد ملک کے امن عمل میں شامل ہو گیا۔
.......
/169