14 جولائی 2014 - 10:43
جرمنی اور امریکہ کے درمیان نئے جاسوسی اسکینڈل کے اثرات

جرمنی اور امریکہ کے تعلقات پر نئے جاسوسی اسکینڈل کا منفی اثر پڑ رھا ھے۔

ابنا: جرمنی اور امریکہ کے تعلقات پر نئے جاسوسی اسکینڈل کا منفی اثر پڑ رھا ھے۔ اس ھفتے جرمنی کے حکام نے ایک سی آئی اے ایجنٹ کو ملک بدر کر دیا جو برلن میں امریکہ کے سفارتخانے میں کام کرتا تھا۔ جرمنی کے حکام نے اس لئے یہ اقدام اٹھایا کہ اس سے کچہ عرصہ قبل ملک کے سیکیورٹی اداروں میں کام کرنے والے 2 امریکی ایجنٹوں کو پکڑا گیا ھے۔ اس اسکینڈل سے وابستہ حالات اس وجہ سے خاص طور پر کشیدہ ھیں کہ گذشتہ سال پتہ لگا تھا کہ امریکہ کی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی طویل عرصے تک جرمن چانسلر آنگیلا میرکل سمیت جرمنی اور دیگر ممالک کے شہریوں کی سائبر جاسوسی کرتی رھی۔

دونوں پکڑے گئے جاسوس امریکی خصوصی اداروں کی درخواستوں پر امریکہ کو خفیہ دستاویزات فراھم کرتے تھے۔ انہوں نے جرمنی کی سیکیورٹی کو جو نقصان پہنچایا ھے اس کا ابھی تا اندازہ نہيں لگایا گیا، لیکن واضح ھے کہ اس امر کا برلن اور واشنگٹن کے درمیان پراعتماد تعلقات پر سخت منفی اثر پڑیگا۔
چانسلر میرکل نے دونوں ممالک کی خفیہ سروسوں کے تعاون کو کم سے کم کرنے کا حکم دیا ھے، جبکہ گذشتہ سال کے جاسوسی بکھیڑے پر ان کا اتنا شدید رد عمل نہیں ھوا تھا۔ سن 2013 میں امریکہ کو جرمنی سے معذرت مانگنا پڑا تھا لیکن امریکی مخصوص اداروں نے اس ملک کے خلاف اپنی جاسوسی کارروائیاں بند نہیں کیں۔ اس سلسلے میں یاد دلانا بے جا نہ ھوگا کہ جرمنی کو امریکہ کا ایک بنیادی یورپی اتحادی سمجھا جاتا ھے۔ روسی ایجنسی 'ار ٹیکنو' کے رھنما رومان روماچیو نے اس ضمن میں کہا کہ جرمنی کی انٹیلیجنس سروس بی این ڈی سی آئی اے کی زیر سرپرستی قائم کی گئی تھی اور اسی امریکی ایجنسی طویل عرصے تک بی این ڈی کی سرگرمیوں پر کنٹرول کرتی رھی۔ اس لئے یہ حیرت کی بات نہیں کہ جرمنی میں وقتا" فوقتا" امریکی جاسوسوں کو پکڑا جاتا ھے۔علاوہ از یں جرمنی میں کئی امریکی فوجی اڈے موجود ھیں اور امریکی اس ملک پر کنٹرول کو یقینی بنانے کی ھر ممکن کوشش کر رھے ھیں۔
وھائٹ ھاؤس نے جاسوسی کے نئے بکھیڑے کے سلسلے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا اور صرف نشاندھی کی کہ امریکہ تمام میدانوں میں جرمنی کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاھتا ھے۔ لیکن امریکی پریس میں یہ رائے ظاھر کی گئی ھے کہ جرمنی کی جاسوسی کرنا امریکہ کا فرض تھا کیونکہ اس طرح کی کارروائیاں امریکہ کے مفادات کی حفاظت کئے جانے میں معاون ثابت ھوتی ھیں۔ بعض امریکی ذرایع ابلاغ نے یہ دلیل پیش کی کہ چونکہ جرمن حکام روس کے ساتھ پارٹنرشپ کو برقرار رکھے ھوئے ھیں اس لئے واشنگٹن جرمنی کو پورے اعتماد کی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتا۔
کچھ عرصہ قبل صدر روس ولادیمیر پوتین نے صحافیوں سے ملاقات کرتے ھوئے کہا کہ سائبر جاسوسی ریاکاری کی مانند ھے اور اس طرح کی جاسوسی کی وجہ سے دیگر ممالک کے حق خود مختاری کو براہ راست طور پر نقصان پہنچتا ھے۔ صدر روس کو بھی مغرب کے ایک نمائندے کے نا زیبا اقدام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ماضی میں نیٹو کے موجودہ سیکریٹری جنرل راسموسن نے جو اس وقت ڈینمارک کے وزیر اعظم تھے، ولادیمیر پوتین سے ذاتی ملاقات کی درخواست کرکے اس ملاقات میں کی گئی باتوں کی خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی اوراسے پریس میں جاری کیا تھا۔ ولادیمیر پوتین نے اس سلسلے میں کہا کہ کیا اس طرح کے واقعات کے بعد کوئی اعتماد ممکن ھے؟
روسی ایجنسی 'ار ٹیکنو' کے رھنما رومان روماچیو نے نشاندھی کی بعض اوقات پارٹنروں کی شرافت پر یقین کرنا ضروری ھوتا ھے۔ ساتھ ھی سیکیورٹی کے قاعدے بہت سخت ھونے چاھیں۔ موصوف نے مزید کہا کہ صدر روس کے پاس ایسی ٹیکنالوجیز موجود ھیں جن کی بدولت سائبر جاسوسی کا خطرہ دور کیا جا سکتا ھے۔ جہاں تک جرمن چانسلر میرکل کا تعلق ھے تو سب کو معلوم تھا کہ وہ سرگرمی کے ساتھ عام موبائل فون کا استعمال کرتی ھیں۔ اس لئے سائبر جاسوسی اسکینڈل ممکن ھوا تھا۔اندازہ ھے کہ جرمن سیاسی مدبر سیکیورٹی ٹکنالوجیز کو کافی اھمیت نہیں دیتے۔
جرمنی کے ان واقعات کے مد نظر صدر روس ولادیمیر پوتین نے بیان دیا کہ روس بین الاقوامی انفارمیشن سیکیورٹی سسٹم کے قیام میں حصہ لینے کیلئے تیار ھے۔
.......

/169

لیبلز