14 جولائی 2014 - 10:11
فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ: طاہر قادری

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کے اندر اتنی جرات نہیں کہ اقوام عالم کے سامنے ڈٹ کر فلسطین کے مسئلے کو اٹھائیں، یہ حکمران خود اسرائیلی ذہنیت کے مالک ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔ اقوام متحدہ کا قیام اس لیے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ وہ اقوام عالم کے درمیان امن بحال کرسکے مگر یہ ادارہ مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور ویٹو طاقتوں کے ہاتھوں کھلونا بنا ہوا ہے۔ اقوام متحدہ نے یہ مسئلہ حل کر دیا تھا، ان کی حدود متعین کر دی تھیں، مگر UN اپنی قرار دادوں پر عمل نہیں کروا سکا۔ فلسطین کے بارے میں 100 سے زیادہ قراردادیں ویٹو ہوچکی ہیں، دنیا میں ویٹو پاورز نے طاقت کا توازن بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اقوام عالم میں کسی کو جرات نہیں کہ اسرائیل کی جارحیت کے بارے میں اس سے سوال کرسکے، ایک طرف پتھر اور غلیل ہے اور دوسری طرف ٹینک، میزائل، توپیں اور گولہ و بارود ہے۔ 180 ہلاکتیں ہوچکی ہیں، سینکڑوں لوگ زخمی اور قومی املاک تباہ و برباد کر دی گئیں ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فلسطین کے بارڈر پر عالمی افواج کو تعینات کیا جائے۔ جس سمت سے بربریت ہو رہی ہے انہیں روکنے کے لیے اقوام متحدہ کردار ادا کرے، فلسطین میں مسئلہ مسلم یا نان مسلم کا نہیں ہے بلکہ انسانیت کا ہے، یہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے۔ یہ خواتین اور معصوم بچوں کے حقوق کا مسئلہ ہے، ہمیں اس بربریت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونا چاہیے اور اقوام متحدہ کا دروازہ کٹھکھٹانا چاہیے۔

ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کے اندر اتنی جرات نہیں کہ اقوام عالم کے سامنے ڈٹ کر فلسطین کے مسئلے کو اٹھائیں، یہ حکمران خود اسرائیلی ذہنیت کے مالک ہیں، جنہوں نے 17 جون کو لاہور کے اندر چھوٹا غزہ قائم کرتے ہوئے ایک سو نہتے پاکستانی شہریوں پر گولیاں چلائیں۔ 14 نہتے پاکستانیوں کو گولی مار کر شہید کر دیا، جن میں دو خواتین کے چہروں پر سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ APC کے مطالبے کے باوجود وزیراعلٰی ابھی تک مستعفی نہیں ہوئے۔ ساؤتھ کوریا کے صدر کشتی ڈوبنے پر مستعفی ہو جاتے ہیں، یہاں ماڈل ٹاؤن میں 100 لوگ گولیوں سے چھلنی ہوجاتے اور 14 لاشیں گر جاتی ہیں، لیکن کوئی مستعفی نہیں ہوتا۔ مقتولین کی FIR درج نہیں کی جا رہی، زخمیوں کا ریکارڈ تبدیل کیا جا رہا ہے۔ قاتل خود مدعی بن گئے ہیں، ان سے کیا توقع کریں کہ یہ فلسطین کے لوگوں کیلئے آواز اٹھائیں گے۔ انقلاب آئے گا پھر آواز اٹھے گی۔ یہ اقتدار بھیک میں مانگ کر لائے ہیں، انکی اپنی کوئی پالیسی نہیں، یہ اپنے آقاؤں کے غلام ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲