8 جولائی 2014 - 09:10
عراقی فوج کی پیشقدمی، 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک

عراق کے صلاح الدین صوبے کے سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی تكريت میں مقامی قبائل اور داعش کے دہشت گردوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں داعش کے 90 دہشت گرد مارے گئے ہیں ۔

ابنا: شمالی تكريت کے الزاويا، مكحول اور مسحک علاقوں کے قبیلوں نے بیجی کے نواحی علاقوں میں داعش کے 50 دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ رپورٹ کے مطابق مسلح قبیلوں نے اسی طرح داعش کی دسیوں گاڑیوں کو جلا کر راکھ کر دیا۔

ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ داعش کی طرف سے ہونے والی فائرنگ میں پانچ عام شہری ہلاک اور 15 زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی قبائل اور داعش کے دہشت گردوں کے درمیان ان علاقوں میں ہونے والی جھڑپوں میں مسلح قبائل، داعش کے دہشت گردوں پر کامیاب رہے۔
ادھر انسداد دہشت گردی ٹیم نے بتایا ہے کہ موصل سے بیجی رفائنري کے درمیان داعش کے دہشت گردوں کی 45 گاڑیوں کو تباہ کر دیا گیا اور اس میں سوار تمام دہشت گرد مارے گئے۔ انسداد دہشت گردی ٹیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فضائیہ کی ہماہنگی سے ہونے والے اس حملے میں موصل سے بیجی رفائنري کی طرف سے جانے والی دہشت گردوں کی ساٹھ گاڑیوں میں سے 45 کو تباہ کر دیا گیا اور اس میں سوار تمام دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔
اس سے قبل فوج نے کہا تھا کہ عراق کے دیالہ اور صلاح الدین صوبوں کے زیادہ تر علاقوں پر فوج کا کنٹرول ہو گیا ہے۔
دیالہ صوبے کی صوبائی کونسل کے ایک رکن عصام شاکر نے پیر کو بتایا ہے کہ دیالہ صوبے کا 95 فیصد حصہ فوج کے کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کے دہشت گردوں کے فرار ہونے کے بعد سے صلاح الدین صوبے کے زیادہ تر علاقوں پر فوج نے قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دیالہ اور صلاح الدین صوبوں میں فوج کے ساتھ مقابلے میں دہشت گردوں کو جانی اور مالی دونوں قسم کے نقصانات ہوئے ہیں۔
.......

/169