ابنا: واشنگٹن پوسٹ نے دعوی کیا ہے کہ 10 میں سے 9 لوگ ایسے تھے جو این ایس اے کی طرف سے دوسروں کے لئے بچھائے گئے جال میں پھنس گئے۔
اخبار نے یہ بھی دعوی کیا ہے کہ اس نے امریکی جاسوسی ایجنسی کی طرف سے جمع کیے گئے 1 لاکھ 60 ہزار ای-میل اور انٹرنیٹ پیغامات کے تبادلے کی معلومات کا جائزہ لیا ہے۔
دوسری طرف، ایک بین الاقوامی وکیل نے واشنگٹن پوسٹ کے دعوے کو حقیقت سے بہت دور قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اخبار امریکی "خارجہ پالیسی کونسل کا ایک حصہ ہے"۔
بیرے گروسمین کا کہنا ہے کہ اصل میں اخبار کی اس کہانی میں میں نے بہت سی ایسی چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے جو سچائی کو چھپانے کی کوشش معلوم ہوتی ہیں.
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ سابق امریکی جاسوس ایڈورڈ سنوڈن کی طرف سے دنیا بھر میں امریکی جاسوسی سرگرمیوں سے پردہ اٹھانے کی اہمیت کو کم کرنے کی ایک کوشش ہے۔
.......
/169