اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ کربلا کے گورنر عقیل الطریحی نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا: سکیورٹی فورس نے خود ساختہ مرجع محمود الحسنی الصرخی کے گھر پر چھاپہ مار کر اس میں بم بنانے کے کارخانے اور بھاری مقدار میں اسلحہ و بارود برآمد کیا۔
انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ الصرخی کا شیعہ علماء سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اسے دشمن کی طرف سے شیعہ علماء کو بدنام کرنے کے لیے اس لباس میں سامنے لایا گیا ہے کہا: اس کے گھر میں بم بنانے کا کارخانہ اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا ہے اور اس کے بعد اس کے تمام حامیوں کو زیر نظر رکھا گیا ہے۔
جنرل عثمان الغانمی نے اس سلسلے میں مزید کہا: کربلا میں ہونے والی ان جھڑپوں کے دوران صرخی کے حامی ۳۵۰ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کربلا میں سعودی عرب کی روٹیوں پر پلنے والے بظاہر شیعہ مولوی محمود حسنی الصرخی کے حامیوں نے گزشتہ ہفتے کربلا پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں عراقی فورس نے کربلا کا دفاع کرتے ہوئے الصرخی کے حامیوں کے ساتھ مقابلہ کیا۔ اس جھڑپ میں الصرخی کے حامی ۱۲۰ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ حسنی صرخی کو اس کے دفتر سے فرار کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔









۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲