اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ لندن کے ایک سیاسی تجزیہ نگار زیاد العیسیٰ نے پریس ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے شیعہ علماء اور انسانی حقوق کارکنوں پر سفر کی پابندیاں ایران کے مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے خوف سے عائد کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شروع ہوئی تحریک سے آل سعود حکومت کے ہوش اُڑ گئے ہیں کیونکہ یہ صوبہ تیل کے ذخائر کے لحاظ سے کافی امیر ہے اور وہاں لوگ تشدد ،ظلم و جبر اور امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
العیسیٰ نے کہا کہ یہ تحریک اب آل سعود حکومت کے کٹر علاقوں تک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے حکومت کافی پریشان ہوگئی ہے۔لہٰذا انہوں نے اس تحریک کو دبانے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آل سعود حکومت فرقہ وارانہ فسادات اٹھا کر عوام کو یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ وہ ملک کو شیعوں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خطرے سے بچانے میں مصروف ہے۔انہوں نے کہا کہ آل سعود حکومت یہ ظاہر کرنا چاہتی ہے کہ وہ سنی اسلام کو شیعوں کے خطرات سے محفوظ رکھ رہی ہے۔
العیسیٰ نے مزید کہا لیکن ان کی یہ چال ناکام ہوئی ہے کیونکہ سعودی عرب نے تیونس ،مصر اور یمن میں آمر حکمرانوں کی حمایت کا کھلے عام اعلان کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲